.

پاکستان کو قرضے کے بحران سے نکلنے کے لیے مزید قرض کی ضرورت ہے: عمران خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضے کے بحران سے نکلنے کے لیے مزید قرض کی ضرورت ہے۔

وہ سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ ’’مستقبل سرمایہ کاری اقدام فورم‘‘ میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے اس امید کا اظہا ر کیا ہے کہ دوست ممالک کی حکومتیں اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کو قرض دیں گے۔

عمران خان کا وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کا یہ دوسرا دورہ ہے۔وہ سعودی عرب سے قرضوں اور سرمایہ کاری کی شکل میں امداد کے خواہاں ہیں۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’پاکستان کی دس کروڑ آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔حکومت پر اس آبادی کو روزگار دلانے کے لیے دباؤ ہے۔ ہم سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ہمارا منصوبہ نہ صرف غیرملکی اور سمندر پار سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ اپنے سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سلسلے میں ہم اپنے ڈیوٹی سیکٹر پر نظرثانی کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان معدنی وسائل کی دولت سے مالامال ہے۔اس سے ماضی میں دہشت گردی اور کرپشن کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا تھا لیکن اب صورت حال تبدیل ہورہی ہے۔سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس کی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پالیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستا ن کو اس وقت سب سے زیادہ امن اور سلامتی کی ضرورت ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ میں نے بھار ت کی جانب امن کا ہاتھ بڑھایا تھا لیکن بھارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔البتہ توقع ہے کہ بھارت میں عام انتخابات کے بعد اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان کو اپنی تیل کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے دو آئیل ریفائنریوں کی ضرورت ہے۔وہ سعودی سرمایہ کاروں سے ان دونوں منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے بات چیت کررہا ہے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی کاروباری شخصیات کا ایک وفد تشکیل دے رہے ہیں۔