.

پاکستان یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ثالثی کو تیار ہے: عمران خان

حکومت کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سعودی عرب نے زبردست پیکج دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے امدادی پیکج کو زبردست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعد اب حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے بہت زیادہ قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وہ بدھ کی شب ویڈیو لنک کے ذریعے قوم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ یمن میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ہم ثالث کا کردار ادا کریں گے اور ہم مسلمان ملکوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے حکومت میں آتے ہی قرضوں کی واپسی کا بوجھ بڑھ گیاتھا اور یہ ایک بڑا چیلنج تھا مگر اللہ کا شکر ہے کہ سعودی عرب سے ہمیں زبردست پیکج مل گیا ہے۔اس سے قرضوں کا دباؤکم ہو گیا ہے۔ وہ سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ پیکج کا ذکر کررہے تھے۔اس کے تحت سعودی عرب نے پاکستان کو ایک سال کے لیے تین ارب ڈالرز نقد رقم دینے اور تین ارب ڈالرز تیل کی خریداری پر موخر ادائی کی شکل میں دینے سے اتفاق کیا ہے۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں پاکستان کے ملکی اور غیرملکی قرضوں کی تفصیل بیان کی ہے اور قوم کو بتایا ہے کہ 1971میں ملک کا کل قرضہ 30ارب روپے تھا۔ اس دور میں منگلا اور تربیلا ڈیم جیسے بڑے منصوبے مکمل ہوئے تھے۔ 60کی دہائی میں پاکستان نے تیزی کے ساتھ ترقی کی مگر گذشتہ 40سال میں 2008 ءتک ملک کا قرضہ 6000ارب تک پہنچ گیا تھا اور گذشتہ دس سال میں 6000ارب سے 30,000ارب روپے تک قرضہ جا پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن دو جماعتوں (پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز) کے ادوارِ حکومت میں پاکستان کے قرضے میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے ، وہ اب بار بار کہہ رہی ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہیں۔وہ سب اکٹھی ہو رہی ہیں ۔جن جماعتوں نے دس سال میں 30,000ارب تک قرضہ پہنچایا ہے، ان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔آج یہ جماعتیں احتساب کا عمل رکوانے کے لیے اکٹھی ہو کر حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں ۔وہ کرپشن کو بچانے کے لیے جلسے، جلوسوں کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح دباؤ کے ذریعے ایک اور این آر او ( قومی مفاہمتی آرڈی ننس) حاصل کرلیں ۔

وزیراعظم حزب اختلاف کے لیڈروں کو براہ راست مخاطب ہو کر کہا کہ ’’آپ سب کان کھول کر سن لیں۔ اگر آپ نے سڑکوں پر آنا ہے تو ہم آپ کو کنٹینر دینے کے لیے تیار ہیں۔ بے شک آپ ( اسلام آباد کے) ڈی چوک پر آکر کنٹینر لگا لیں ،ہم آپ کو کھانا بھی پہنچا ئیں گے۔ اگر اسمبلی میں کچھ کرنا ہے تو کھل کر کریں جو مرضی کر لیں آپ کو این آر او نہیں ملے گا ۔میں کسی کرپٹ آدمی کو نہیں چھوڑوں گا ۔میں عوام سے وعدہ کر کے آیا تھا کہ میں کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں ڈالوں گا کیونکہ جب تک ہم کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آج اتنا قرضہ چڑھ گیا ہے ۔آج فالودے والے ،چھابڑی والے اور انتقال کرجانے والے کے بنک اکاؤنٹس میں اربوں روپے کدھر سے آرہے ہیں۔ یہ عوام کا پیسہ چوری ہو رہا ہے جو باہر چلا جاتا ہے۔ اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو ڈرا دھمکا کر این آر او لے لیں گے کیونکہ پہلے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے دباؤ میں آکر این آر او دے دیا تھا ۔

انھوں نے کہا کہ سابق ارباب اقتدار قرضے کی رقوم لیکر منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے گئے ہیں اور آج ہمیں انھیں اتارنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔ان قرضوں کا سارا بوجھ مہنگائی کے ذریعے عوام پر پڑے گا۔ اس سے غربت مزید بڑھ جائے گی ۔پاکستان میں یہ گھن چکر چل رہا ہے ،ایک چھوٹا سا طبقہ امیر اور عوام غریب ہو رہے ہیں۔ یہ گھن چکر توڑنے کے لیے سب بدعنوانوں کا احتساب ہو گا ۔

انھوں نے معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے بعض اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے برآمد کنندگان کی مدد کر رہے ہیں ،اداروں کو مضبوط کر رہے ہیں، سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کر رہے ہیں ۔پاکستان میں سرمایہ کاری لانے اور ترسیلات زر بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک بھر میں 50لاکھ گھر بنائیں گے ۔اس سکیم سے براہ راست 40صنعتیں فعال ہو جائیں گی ،اس سے روزگار کے ہزاروں لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے ۔غربت کے خاتمے کے لیے بھی جلد خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔انھوں نے یہ بھی خوش خبری سنائی کہ سعودی عرب نے پاکستانی تارکین ِ وطن کی ویزا فیس میں کمی سے اتفاق کیا ہے۔