.

توہین مذہب کے مقدمے میں ماخوذ آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے بری کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالت عظمی نے توہین مذہب کیس میں سزائے موت کے خلاف عیسائی مذہب کی پیروکار آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے آسی بی بی کیس میں 8 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ پڑھ کر سنایا اور ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی 2010 سے توہین مذہب کے مقدمے کا سامنا کر رہی تھی اور اس مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی جا چکی تھی۔ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون نے توہین مذہب پر موت کی سزا کو چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 22 جولائی کو توہین مذہب کیس میں موت کی سزا پانے والی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل سماعت کے لیے منظور کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے عدالتی فیصلے کے خلاف آخری اپیل پر 8 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل طویل دورانیے پر مشتمل سماعت ہوئی تھی اور عدالت عظمیٰ نے الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کو آسیہ بی بی کیس پر حتمی فیصلہ آنے سے قبل بحث و مباحثے اور تبصرے سے روک دیا تھا۔

آسیہ پر الزام کیا تھا؟

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کو نومبر 2010 میں توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ ان کے وکلاء اپنی موکلہ کی بے گناہی پر اصرار کر رہے تھے اور ان کا موقف تھا کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔

آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ انہوں نے جون 2009 میں ایک خاتون سے جھگڑے کے دوران حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کی شان میں توہین کی تھی۔

واقعے کے مطابق، آسیہ نے کھیتوں میں کام کے دوران ایک گلاس میں پانی پیا جس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے آسیہ پانی کے برتن کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں، جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔

واقعے کے کچھ دنوں بعد خاتون نے ایک مقامی عالم سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے سامنے آسیہ کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پیش کیے۔ آسیہ کو نومبر 2010 میں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

اس سے قبل بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف مختلف عدالتوں میں متعدد اپیلیں مسترد ہوچکی تھی جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ان کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

پاکستان میں توہین مذہب کے جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔