.

وزیراعظم عمران خان کاعدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والوں کو سخت انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عدالت ِعظمیٰ کے توہینِ اسلام کے مقدمے میں ماخوذ مسیحی عورت آسیہ بی بی کی برّیت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے مذہبی سیاسی گروپوں اور سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کو سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ قانون کو ہاتھ میں لینے سے باز نہیں آتے تو پھر ریاست اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گی۔

عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی ہے اور اس کو کسی اور مقدمے میں ماخوذ نہ ہونے کی صورت میں فور ی طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔بدھ کی صبح اس فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مذہبی وسیاسی جماعتو ں کے کارکنان مختلف شہروں میں سڑکوں پر آ گئے تھے اور انھوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا۔

مظاہرین نے اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹر چینج کو احتجاجاً بند کر دیا تھا جس کے بعد جڑواں شہروں کی مصروف شاہراہو ں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ مظاہرین نے اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور فوجی جرنیلوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف بغاوت کردیں ۔

ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شب پونے آٹھ بجے قوم سے مختصر خطاب کیا اور مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور انتشار پھیلانے والے لیڈروں کے ہاتھوں میں استعمال نہ ہوں کیونکہ وہ انھیں سیاسی مقاصد کے لیے شہ دے رہے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیل رہے ہیں مگر اسلام کی کوئی خدمت نہیں کررہے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن ( پی ٹی وی ) سے نشر کی گئی مختصر تقریر میں عمران خان نے ’’ مختصر گروہ‘‘ کی جانب سے استعمال کی گئی اشتعال انگیز زُبان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ سڑکیں بند کرکے اور احتجاجی مظاہروں سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کا عقیدہ ہے اور اس کے بغیر تو کسی کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوسکتا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ جب لوگ ججوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں تو اس صورت میں کوئی حکومت کیسے چل سکتی ہے۔ہمیں پہلے ہی مشکل اقتصادی حالات کا سامنا ہے۔ہم دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ہم لوگوں کا معیار ِ زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے ملک بھر میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ اگر سپریم کورٹ ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتی ہے تو کیا وہ سڑکوں پر آجائیں گے۔اس احتجاجی سلسلے کا عوام ہی کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔دیہاڑی دار مزدور ایسی صورت میں کیسے اپنی گزربسر کرسکیں گے‘‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی جارہی ہے۔یہ تو سراسر ملک دشمنی ہے۔انھوں نے سخت گیر عناصر کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا :’’ میں ان عناصر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ریاست کے ساتھ نہ ٹکرائیں،اپنے ووٹ بنک کو بڑھانے کے لیے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر آپ ( مظاہرین) یہ سلسلہ جاری رکھیں گے تو پھرمیں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ریاست عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے گی۔ہم کسی طرح کی توڑ پھوڑ یا ٹریفک کو درہم برہم کی اجازت نہیں دیں گے۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ ریاست کو اس سطح تک نہ لے جائیں کہ اس کے پاس کارروائی کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ رہ جائے‘‘۔