.

اکوڑہ خٹک :مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ میں والد مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک

گورنر کے پی شاہ فرمان ،وزیراعلیٰ محمود خان، راجا ظفر الحق اور سراج الحق سمیت ہزاروں افراد کی نمازِ جنازہ میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (س)کے مقتول سربراہ سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کو ہفتے کی سہ پہر ضلع نوشہرہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں واقع جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے احاطے میں ان کے والد مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان ڈگری کالج میں ادا کی گئی اور نماز جنازہ ان کے بیٹے حامد الحق نے پڑھائی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری،صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان ،وزیر اعلیٰ محمود خان، مسلم لیگ(ن) کے رہ نما راجا ظفر الحق ،سابق صوبائی گورنراقبال ظفر جھگڑا ، امیر مقام، سینٹیر چودھری تنویر،امیر جماعت اسلامی سراج الحق، لیاقت بلوچ، سینیٹر مشتاق احمد خان اور جماعۃ الدعوہ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید ، عوامی نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر غلام احمد بلور اورمولانا یوسف شاہ سمیت ملک بھر سے سیاسی و مذہبی قائدین اور ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ دارالعلوم حقانیہ کے طلبہ کی بڑی تعداد بھی نماز جنازہ میں شریک تھی۔

اس موقع پر جامعہ دارالعلوم حقانیہ ، مولانا کی رہائش گاہ اوراس کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مولانا سمیع الحق کے اندوہ ناک قتل پر صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ہفتے کے روز تمام سرکاری عمارتوں پرقومی پرچم سرنگوں رہا۔اکوڑہ خٹک اور نزدیک واقع قصبے جہانگیرہ میں تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہے۔

راول پنڈی میں مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات جاری ہے ۔ فورنزک ماہرین اور پولیس کے تفتیشی افسروں نے بحریہ ٹاؤن میں واقع سفاری ولاز میں مقتول مولانا سمیع الحق کے گھر سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔ انھیں جمعہ کی شب ان کے گھر پر نامعلوم حملہ آور / افراد نے چھریوں کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔ان کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کا کہنا تھا کہ وہ گھر پر آرام کر رہے تھے جبکہ ڈرائیور اور گن مین گھر سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو مولانا کو بستر پر خون میں لت پت پایا تھا۔انھیں نزدیک واقع اسپتال منتقل کیا گیا لیکن تب تک وہ جان کی بازی ہار چکے تھے۔

پولیس حکام کو مولانا کے قتل میں ایک سے زیادہ افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔پولیس نے مولانا کے دو ملازمین کو حراست میں لیا تھا لیکن انھیں ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔۔ پولیس نے ان کا موبائل فون، چشمہ اور دوسری چیزیں بھی قبضے میں لے کر انگلیوں کے نشان حاصل کرلیے ہیں۔ تفتیش کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے۔

پولیس نے مقتول سیاسی و مذہبی رہ نما کے بیٹے مولانا حامد الحق کی مدعیت میں تھانہ ائیرپورٹ میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر )کے مطابق مولانا سمیع الحق پر جمعہ کی شام قریباً 6 بج کر 30 منٹ پر حملہ کیا گیا تھا۔حملہ آور نے ان کے پیٹ، دل، ماتھے ، کاندھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے تھے۔مولانا حامد الحق نے والد کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ غیرشرعی عمل ہے اور اس سے لاش کی بے حرمتی ہوتی ہے۔اس کے بعد ان کی میت کو تدفین کے لیے اکوڑہ خٹک منتقل کردیا گیا تھا۔