.

امریکی سفیر کی دفتر ِخارجہ طلبی :پاکستان بے بنیاد غوغا آرائی بالکل قبول نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور ( سفیر) پال جونز کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے اور ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ دوروز کے دوران میں پاکستان مخالف غیر ضروری اور بے بنیاد الزامات پر سخت احتجاج کیا ہے۔

دفترخارجہ کے ایک بیان کے مطابق تہمینہ جنجوعہ نے امریکی صدر کے اسامہ بن لادن سے متعلق دعووں کو مسترد کردیا ہے اور امریکی سفیر جونز کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ پاکستان کا انٹیلی جنس تعاون ہی تھا جس کی بدولت اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتا معلوم ہوا تھا۔

انھوں نے امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کو صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹویٹری بیانات پر حکومت کی تشویش اور مایوسی سے آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس طرح کی بے بنیاد غوغا آرائی بالکل ناقابل قبول ہے۔

امریکی صدر نے فاکس نیوز سے اتوار کو انٹرویو میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں 2011ء میں القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’ وہ ملٹری اکیڈمی کے بالکل قریب رہ رہے تھے اور پاکستان میں ہرکوئی یہ بات جانتا تھا‘‘۔

تاہم ان کے پیش رو سابق امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ سال ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی سے آگاہ تھا‘‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’ امریکا پاکستان کو ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی سالانہ امداد مہیا کرتا تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں دیتا۔میں نے اس کو ختم کردیا ہے کیو نکہ انھوں نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا ہے‘‘۔انھوں نے 2018ء کے اوائل میں پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں 2011ء میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی وجہ سے یہ امداد بند کی گئی تھی۔

انھوں نے سوموار کو ٹویٹر پر پاکستان مخالف اپنے ان الزامات کا اعادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل اسامہ بن لادن کو پکڑ لینا چاہیے تھا۔ہم پاکستان کو اربوں ڈالرز امداد دیتے رہے تھے لیکن اس نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر کے ان بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان کو اپنی ناکامیوں پر قربانی کا بکرا بنانے کے بجائےافغانستا ن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ناکامیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔انھوں نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں کوئی بھی پاکستانی ملوث نہیں تھا اور اس جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔