تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے خلاف غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبیک( ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کے خلاف غداری اور دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں مولوی خادم حسین رضوی اور ان کی جماعت کے دوسرے قائدین کے خلاف غداری اور دہشت گردی کے الزامات پر مقدمات کے اندراج کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو گذشتہ ہفتے ملک بھر میں ٹی ایل پی کے لیڈروں اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کی تفصیل بتائی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے خلاف لاہور کے تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس جماعت کے ایک اور لیڈر پیر افضل قادری کے خلاف گجرات میں دہشت گردی کے الزامات ، عنایت الحق کے خلاف راول پنڈی میں دہشت گردی اور غداری اور فاروق الحسن کے خلاف بھی ان ہی الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ تحریک لبیک کے مظاہروں کے دوران میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے ، انھیں تباہ کرنے اور شہریوں کے خلاف ناروا سلوک کرنے والوں کے خلاف مختلف تھانوں میں دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور میں پولیس نے 23 نومبر کو مولوی خادم رضوی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک کے دونوں دھڑوں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا تھا ۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس کارروائی میں صوبہ پنجاب میں 2899 افراد ، صوبہ سندھ میں 139 افراد اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 126 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔عدالتیں اگر ان مشتبہ افراد کو دہشت گردی اور غداری کے الزامات میں قصور وار قرار دے دیتی ہیں تو انھیں عمر قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ تین ہزار سے زیادہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے،ان میں ایک بڑی اکثریت براہ راست تشدد میں ملوث نہیں ہے ،اس لیے انھیں مستقبل میں اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی یقین دہانی کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ صرف ایسے احتجاجی مظاہروں کی اجازت دے گی جن میں عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا لیکن وہ عوام کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور آئین اور قانون کے منافی احتجاج پر خاموش نہیں رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں