.

سابق حکمران جماعت کے دو اہم ارکان نیب نے گرفتار کر لئے

ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لاہور ہائیکورٹ نے سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم "پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی" میں مبینہ طور پر کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے۔

نیب نے دونوں بھائیوں کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے کئی بار طلب بھی کیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے نیب کی جانب سے ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت لے رکھی تھی۔

قبل از گرفتاری درخواست ضمانت میں توسیع کے لیے خواجہ برادران آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، جہاں جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، جس کے بعد نیب کی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا۔

حمزہ شہباز کے لندن جانے پر پابندی

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو لندن جانے سے روک دیا۔

حمزہ شہباز کے مطابق انہوں نے ایف آئی اے حکام کو بتایا کہ وہ نیب میں چلنے والی انکوائری میں مطلوب نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ نیب کا ادارہ حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی تحقیقات کر رہا ہے، جس میں گرفتاری سے بچنے کے لیے انہوں نے حفاظتی ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔