.

پاکستان: امریکا کا مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیوں پر بلیک لسٹ کرنے کا اقدام مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے امریکا کے مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر بلیک لسٹ قرار دینے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’پاکستان کو کسی ملک سے یہ مشورہ لینے کی ضرورت نہیں کہ اس کو اقلیتوں کے حقوق کا کیسے تحفظ کرنا ہے‘‘۔اس نے کہا ہے کہ اسلام آباد امریکا کے بلیک لسٹ قرار دینے کے اقدام کو مسترد کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’’ پاکستان ایک کثیر مذہب اور کثیر ثقافت معاشرہ ہے جہاں مختلف عقیدوں کے ماننے والے لوگ مل جل کر اکٹھے رہتے ہیں‘‘۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کو خود امریکا میں اسلامو فوبیا اور صہیونیت مخالفت میں نمایاں اضافے کا جائزہ لینا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک روز قبل کانگریس کے مینڈیٹ کی حامل سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ’’خصوصی تشویش کے موجب‘‘ ممالک میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اقدام کے تحت امریکی حکومت پاکستان کے خلاف دباؤ میں اضافہ کرسکتی ہے اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی رکوانے کے لیے پابندیاں عاید کرسکتی ہے۔

اس فہرست میں سعودی عرب ، ایران ، چین ، شمالی کوریا، برما ، اریٹریا ، سوڈان اور تاجکستان کے نام شامل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے یا ان سے منظم انداز میں رو رعایت برتی جارہی ہے۔

مائیک پومپیو نے گذشتہ سال پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس فہرست میں شامل ملک پر امریکا کی سالانہ رپورٹ میں مذہبی آزادیوں کی تجویز کردہ اصلاحات کو متعارف کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ امریکا ایسی ہی دوسرے رپورٹس کی بنیاد پر کسی ملک کو بلیک لسٹ کرتا ہے اور پھر ان پر اقتصادی پابندیاں بھی عاید کرسکتا ہے۔

پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا اور اس کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا ایک ننگا حربہ قرار دیا ہے جس کا مقصد ان کےبہ قول افغانستان میں امریکا کی ناکامیوں کا ملبہ تقسیم کرنا ہے لیکن پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا یہ حربہ کامیاب نہیں ہوگا۔