.

اسلام آباد میں ایرانی سفیر دفتر خارجہ طلب ، سکیورٹی فورسز پر حملے پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے میں جنگجوؤں کے سکیورٹی فورسز پر حملے پر اسلام آباد میں متعیّن ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے اور ان سے اس واقعے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں اس حملے میں پاکستان کے چھے سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی سفیر سے حملے میں ملوّث مسلح گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس حملے کی کسی گروپ نے ذمے دار ی قبول نہیں کی اور دونوں ملکوں میں سے کسی نے حملہ آوروں کی شناخت بھی نہیں کی۔

گذشتہ جمعہ کے روز کم سے کم 30 مسلح جنگجوؤں نے فرنٹیئر کور کے ایک گشتی قافلے پر حملہ کیا تھا ۔اس حملے میں چھے فوجی شہید اور چودہ زخمی ہوگئے تھے۔فائرنگ کے تبادلے میں چار حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی تھی اور پاکستان کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں متعدد جنگجو گروپوں کے علا وہ منشیات کے اسمگلر بھی کاررروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

اکتوبر میں مسلح جنگجوؤں نے ایران کی بارڈر سکیورٹی کے دس بارہ اہلکاروں کو اغوا کیا تھا۔ان میں پانچ کو گذشتہ ماہ پاکستان میں رہا کردیا گیا تھا لیکن ان کی بازیابی پُراسرار انداز میں ہوئی تھی اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ انھیں کس نے اور کہاں سے رہا کیا تھا۔