سعودی قیادت میں فوجی اتحاد کسی ملک یا فرقے کے مخالف قائم نہیں کیا گیا:راحیل شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان آرمی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف نے اس تاثر کو غلط قراردیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اکتالیس ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد کسی ملک یا فرقے کے خلاف قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے یہ بات چیئرمین صادق سنجرانی کی قیادت میں سینیٹروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔اس وفد نے سعودی دارالحکومت الریاض میں دہشت گردی مخالف اسلامی فوجی اتحاد کے ہیڈ کوارٹرز میں ان سے ملاقات کی تھی۔

اسلامی فوجی اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف اور ڈپٹی کمانڈر جنرل عبدالرحمان نے سینیٹ کے وفد کا خیر مقدم کیا اور انھیں فوجی اتحاد کے اغراض ومقاصد اور کارکردگی سے آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’’اسلامی فوجی اتحاد کسی ملک ، قوم یا فرقے کے خلاف کارروائی کے لیے تشکیل نہیں دیا گیا تھا۔اس اتحاد کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنا اور اس کا قلع قمع کرنا ہے‘‘۔

سینیٹروں نے ملاقات کے دوران میں سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزم اور کوششوں کو سراہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں