نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس قید اور جرمانے کی سزا

سابق وزیر اعظم کو سزا کے بعد احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید اور ڈھائی کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔ تاہم نواز شریف کو فیلگ شپ ریفرنس میں عدالت نے باعزت بری کر دیا ہے۔ سزا ہونے کے بعد نواز شریف کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

العزیزیہ سٹیل ملز اور فیلگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینس قومی احتساب بیورو کی جانب سے ستمبر 2017 میں دائر کیے گئے تھے جن پر سماعت کے بعد رواں ماہ 19 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا

ان دونوں ریفرینسز میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز ملزمان ہیں۔

نواز شریف پر الزام پے کہ ان کے اثاثے ظاہر کردہ آمدن سے زائد ہیں اور آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے علاوہ ازیں وہ اپنے اثاثوں کی قانونی حیثیت اور ان کے ذرائع ثابت کرنے میں ناکام رہے

حسن اور حسین نواز دونوں اس وقت پاکستان سے باہر ہیں جبکہ نواز شریف ایون فیلڈ ریفرینس میں سزا کی معطلی کے بعد فی الحال جیل سے باہر ہیں

احتساب عدالت ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 برس، مریم نواز کو 8 برس جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک برس قید کی سزا سنا چکی ہے جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں