.

بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے جے آئی ٹی کی ساکھ ختم ہو گئی: ترجمان بلاول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپریم کورٹ میں میگا منی لانڈرنگ کے ذریعے جعلی بینک اکائونٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ سینیٹر فاروق حمید نائیک اور ان کے خاندان جبکہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بھائی عاصم منصورکے نا م بھی ای سی ایل اور جے آئی ٹی رپورٹ سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بلاول بھٹو زرداری اور مرادعلی شاہ کے نام شامل کیے گئے۔عدالت نے معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے 2 ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر ضروری ہو تو بلاول بھٹو زرداری اور سید مراد علی شاہ کا مئوقف لینے کے لیے نیب انہیں طلب کر سکتا ہے۔ نیب بلاول بھٹو زرداری اور سید مراد علی شاہ سے آزادانہ تحقیقات کر سکتا ہے۔ نیب جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ازسر نو تحقیقات کرے۔تحقیقات کے بعد ریفرنس بنتا ہو تو دائر کیا جائے۔ نیب جس کو چاہے سمن کر کے طلب کر سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ جعلی بینک اکائونٹس کیس کا تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کرے گی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اومنی گروپ کے خلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل نے کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)کی رپورٹ پر 172افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے سے متعلق وضاحت بھی عدالت عظمی میں پیش کردی۔پیر کوچیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے جعلی بینک اکائونٹس کیس کی سماعت کی۔

بحریہ ٹائون کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے پیرا گراف 275میں فاروق ایچ نائیک کے بیٹے کا ذکر ہے، الزام لگایا گیا کہ کراچی میں فاروق نائیک کے بیٹے نے دو گھراہلیہ کے نام خریدے. کہا گیا نیب فاروق نائیک اور سندھ حکومت کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کررہا ہے، انہیں وکلا کے خلاف تحقیقات پراعتراض ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، تحقیقات میں علم ہو جائے گا گٹھ جوڑ ہے یا نہیں، جس پر طارق رحیم نے کہا کہ ایسی باتوں سے پنڈورا بکس کھلے گا۔ اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ یکم جنوری کو افتخار درانی نے کہا کہ حکومت نے کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ میں جے آئی ٹی میں نام آنے پر 172 افراد کو ای سی ایل میں شامل کرنے کا معاملہ رکھا گیا ہے، کابینہ 10 جنوری کی میٹنگ میں ای سی ایل سے متعلق فیصلہ کرے گی ۔اس موقع پر اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ معاملہ کمیٹی کو بھجوا کر الجھا دیا گیا ہے، معلوم نہیں کمیٹی کب اقدامات کرے۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اومنی گروپ کے وکیل کی بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کو مسئلہ ہے تو کابینہ کو چھوڑیں، میں ای سی ایل میں نام ڈال دیتا ہوں۔ آپ اصل کیس کی طرف نہیں آ رہے، آپ نے قسم کھا لی ہے کہ کیس آگے نہیں چلنے دینا، کیس نیب کو بھجوانے پر دلائل دیں، اومنی گروپ کے خلاف اتنامواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، اوپر سے چینی کی بوریاں بھی اٹھا لی گئیں، یہ بتائیں کہ معاملہ اب کس کورٹ کو بھیج دیں؟۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ بلاول زرداری کو کیوں ملوث کیا گیا، وہ معصوم بچہ ہے، جو صرف اپنی والدہ کی وراثت کو آگے بڑھا رہا ہے، آپ نے اس کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے بلاول زرداری کو بدنام کرنے کے لیے انہیں معاملے میں شامل کیا ہے یا کسی کے کہنے پر بلاول زرداری کو شامل کیا؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلاول بھٹو زرداری کا کیریئر ابھی تک بے داغ ہے، ان کے والد اور پھوپھی کا تو اس معاملے میں کوئی کردار ہوگا لیکن بلاول کا کیا کردار ہے؟ جے آئی ٹی بلاول بھٹو زرداری سے متعلق مطمئن کرے۔

جے آئے ٹی وکیل فیصل صدیقی نے عدالت عظمی کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ 57پر پارک لین کی ایک پراپرٹی کا ذکر ہے، جسے جعلی اکائونٹس سے خریدا گیا اور اس جائیداد میں بلاول بھٹو کے 25 فیصد شیئر ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر شیئر ہیں تو کیسے ثابت ہوا کہ بلاول نے کوئی جرم کیا ہے؟ جائیداد کو منجمد کر دیتے ہیں لیکن اس بنیاد پر بلاول کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ جہاں جہاں بلاول بھٹو زرداری کا نام ہے اس حصے کو حذف کیا جائے،بلاول اور فاروق ایچ نائیک کے حوالے سے جے آئی ٹی سے جواب لیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت بہت بڑی رحمت ہے، الیکشن سے قبل لوگ کہتے تھے کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ شکرہے الیکشن ہوگئے، ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف لے رکھا ہے، ہم کسی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، یہ عوام سے ہماری کمٹمنٹ ہے کہ آئین کا دفاع کریں گے۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کے روبرو کہا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو شامل تفتیش کیے بغیر ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مراد علی شاہ کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے، دیکھ تو لیتے کہ وہ ایک صوبے کے وزیراعلی ہیں، کس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے بڑے صوبے کے وزیراعلی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بلاول بھٹو زرداری اور مرادعلی شاہ کے نام شامل کیے گئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل منیر بھٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جعلی اکائونٹس کا تعلق اومنی اور سیاستدانوں سے ہے، لیکن آپ مت سمجھیں کہ آپ کو مجرم ٹھہرائیں گے، ابھی مقدمہ انکوائری کے مراحل پر ہے۔ آپ جا کر اس کا دفاع کرسکتے ہیں۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کو تسلی کرائیں کہ آپ کا مکل کیسے دنوں میں ارب پتی بن گیا اور پیسے درختوں پر لگنے شروع ہوگئے، ہم نہیں کہتے کہ لانچوں کے ذریعے آئے۔
اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے اومنی گروپ کے وکیل منیر بھٹی سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کی کتنی ملیں ہیں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے موکل کی 8ملیں ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سبسڈی کے معاملے پر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بھٹی صاحب سندھ حکومت چینی پر 2روپے زیادہ سبسڈی دے رہی ہے۔ جس پر وکیل اومنی گروپ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی طرف سے دیئے گئے اعدادوشمار ریکارڈ پر نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو تو معاملہ ٹرائل عدالت بھجوانے پر اصرار کرنا چاہیے، اگر ہم اس رپورٹ کو قبول کر لیں تو آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا۔ جس پر وکیل منیر بھٹی نے جواب دیا کہ اس رپورٹ میں ہمارے فاروق ایچ نائیک پر بھی الزامات ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ہمارے بھی تو ہیں،آپ ان کی فکر چھوڑیں۔

فیصلے پر ترجمان بلاول بھٹو کا ردعمل

ادھر بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جے آئی ٹی کی ساکھ ختم ہو گئی۔ وفاقی کابینہ بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل پر ڈالنے پر معافی مانگے۔ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکائونٹس کیس کی سماعت کے دوران بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے اور جے آئی ٹی رپورٹ سے حذف کرنے کا حکم دیا ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی سیاسی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے جے آئی ٹی کی ساکھ بھی ختم ہوگئی۔ عدالت عظمی نے بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کے نام جے آئی ٹی میں آنے کو بدنیتی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل پر ڈالنے پر معافی مانگے اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا استعفیٰ مانگنے والے اب خود مستعفی ہوں۔ آج جے آئی ٹی کے سیاسی اور جانبدار ہونے پر مہر لگ گئی۔ ثابت ہو گیا کہ جے آئی ٹی نے حقائق پر نہیں بلکہ سیاسی دبائو پر رپورٹ مرتب کی۔ سپریم کورٹ کے حکم سے پیپلز پارٹی کے موقف کی تائید ہوئی ہے۔