.

سعودی وزیر توانائی خالد الفالح کی قیادت میں سعودی وفد کا دورہ گوادر

پاکستان اور سعودی عرب آئل سٹی کے قیام کیلئے آئندہ ماہ معاہدے پر دستخط کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی وصنعت اور معدنی وسائل انجنیئر خالد الفالح نے پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انجنیئر خالد الفالح سعودی پیٹرولیم کمپنی آرامکو کے بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔

سعودی عرب کا اعلیٰ اختیاراتی وفد انجینئر خالد الفالح کی قیادت میں گوادر پہنچا۔ وزیر پٹرولیم غلام سرور خان اور وزیر بحری امور علی زیدی نے ان کا استقبال کیا۔

سعودی وفد کو چائنا بزنس کمپلیکس میں بریفننگ دی گئی۔ جس میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔

انجیئر خالد بن الفالح نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرے گا۔ پاکستان، چین اور سعودی عرب کی دوستی اور باہمی اشتراک عالمی مثال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے کے امن اور استحکام کیلئے اہمیت کے حامل ممالک ہیں۔

وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ سعودی عرب کی شمولیت سے ’سی پیک‘ منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں لہٰذا سعودی عرب کو پاکستان میں زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

کوئٹہ سے گوادر روانگی سے قبل پاکستان کے وزیر پیٹرولیم چوہدری غلام سرور خان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’چین کو گوادر میں سعودی عرب کی آمد پر کوئی خدشہ نہیں ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کو بھی اس بارے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر پیٹرولیم کے بعد آئندہ ماہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان کا بھی دورہ گوادر متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر مجوزہ تیل ریفائنری کے سمجھوتے پر دستخط بھی متوقع ہیں جس کے بعد بہت جلد بلوچستان میں ایک جدید آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان نے وفاقی وزیر غلام سرور کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گوادر میں مجوزہ آئل ریفائنری دس ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اس آئل ریفائنری کی تیل ریفائن کرنے کی صلاحیت یومیہ دو لاکھ پچاس ہزار بیرل ہوگی۔