.

’پاکستان آئی ایم ایف کے پاس نہیں جارہا، مِنی بجٹ 23 جنوری کو آئے گا‘

ملک میں سرمایہ کاری لانے سے متعلق سمجھوتوں کے آیندہ ہفتے سے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے: وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے قوم کو خوش خبری سنائی ہےکہ وفاقی حکومت فی الوقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) سے امدادی پروگرام کے لیے رجوع نہیں کررہی ہے۔

اسد عمر نے ہفتے کے روز ایوانِ صنعت وتجارت کراچی میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے بجائے متبادل آپشنز پر غور کررہی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت 23 جنوری کو ایک مِنی بجٹ پیش کرے گی۔پہلے یہ بجٹ 21 جنوری کو پیش کیا جانا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان کے غیرملکی دورے کے پیش نظر اس میں دو دن کی تاخیر کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنے لاہور اور کراچی کے اس سفر کے بارے میں بتایا کہ اس کا یک نکاتی ایجنڈا ہے اور وہ ہے : ترمیمی فنانس بل۔ اس سے ان کے بہ قول کاروباری طبقے کو سہولت حاصل ہوگی اور اس میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے لیے بھی ایک اچھی خبر ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مِنی بجٹ کے سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی ہے۔انھوں نے کاروباری طبقے کے نمایندہ وفد کو یقین دہانی کرائی ہےکہ اس بجٹ میں ٹیکس نظام میں موجود اسقام کو دور کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ حکومت صرف رقوم حاصل کررہی ہے،بلکہ ان کے بہ قول ملک میں سرمایہ کاری لانے سے متعلق متعدد سمجھوتوں پر دست خط بھی کیے گئے ہیں۔آیندہ ہفتے سے ان کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ اسد عمر نے وزیر خزانہ کا منصب سنبھالنے سے قبل اور بعد میں بلومبرگ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی حکومت کو دس سے بارہ ارب ڈالرز درکار ہوں گے اور اس کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔

مگر بعد میں حکومت نے پاکستان کے دوست ممالک سے مالی امداد کے حصول کے لیے مذاکرات کیے تھے اور سعودی عرب نے چھے ارب ڈالرز کے ایک امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا۔سعودی عرب نے اس میں تین ارب ڈالرز پاکستان کو ادائیوں کے توازن کے لیے دیے ہیں اور تین ارب ڈالرز ہی تیل کی موخر ادائی کی مد میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

بہ الفاظ دیگر سعودی عرب پاکستان کو اتنی مالیت کا تیل دے گا لیکن وہ ان کی قیمت بعد میں وصول کرے گا۔متحدہ عرب امارات نے بھی کم وبیش اتنی مالیت کے پیکج کا اعلان کیا تھا اور اس کے شرائط وضوابط بھی وہی ہیں جو سعودی عرب کے امدادی پیکج کے ہیں۔چین نے بھی پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے دو ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا۔

مزید برآں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری سےمتعلق اسی ماہ متعدد سمجھوتوں پر بھی دستخط کیے جارہے ہیں۔ان کے تحت سعودی عرب پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ان میں گوادر میں تیل صاف کرنے کا ایک کارخانہ لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔