.

افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے: عمران خان

وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماوں نے دوطرفہ دلچسپی کے امور سمیت افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کیا اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ہونے والی بات چیت پر اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم عمران خان اور اشرف غنی کے درمیان پاک افغان تعلقات اور طرفہ امور پر سمیت زلمے خلیل زاد کے دورے سے متعلق بات چیت ہوئی جب کہ دونوں رہنماوں نے افغان مفاہمتی عمل اور سرحدی سلامتی کے امور پر بھی بات کی۔

افغان صدر سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پرامن مصالحتی عمل سے متعلق سنجیدہ کوششوں پر یقین رکھتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں مثبت کردار جاری رکھے گا۔ پاکستان افغان فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے کوشاں ہے جب کہ مسئلے کا بہترین حل افغان فریقین کے درمیان مصالحت اور مذاکرات ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان صدر نے وزیراعظم عمران خان کو دورہ افغانستان کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی افغان صدر کو پاکستان کا دو رہ کرنے کی دعوت دی۔

ادھر افغان میڈیا کے توسط سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں افغان صدر نے عمران خان کو افغانستان آنے کی دعوت دی جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا۔ دونوں رہنماوں نے تصفیہ طلب مسائل کے حل کی خاطر رابطہ جاری رکھنے اور ماحول قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

زلمے خلیل زاد کا دورہ پاکستان، ملاقاتیں

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے پاکستان میں ملاقاتوں کا آغاز کردیا۔ وزارت خارجہ کے پریس ریلیز کے مطابق زلمے خلیل زاد نے جمعرات کے روز وزرات خارجہ کا دورہ کیا، جہاں ان کے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ بات چیت کے دوران فریقین نے ابوظبی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد افغان مفاہمتی عمل پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان کا چند ماہ میں دوسرے دورہ کرنے والے زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد کا مقصد افغانستان میں فوجی انخلا، افغان طالبان سے مذاکرات اور افغان عمل سے متعلق مشاورت کرنا ہے۔ زلمے خلیل زاد دورہ افغانستان کے بعد پاکستان پہنچے ہیں جب کہ اس سے قبل وہ چین کے دورے پر تھے۔ جہاں انہوں نے افغانستان اور چین کی قیادت سے ملاقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔امریکی نمائندہ خصوصی کے ہمراہ امریکی ڈپٹی وزیر خارجہ ایلیس ویلز بھی موجود ہیں۔ دونوں نے پاکستان کی اعلی سول وعسکری قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد 21 جنوری تک بھارت، چین، افغانستان اور پاکستان کے دورے پر ہیں اور چاروں ممالک کے دورہ میں مسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کے لیے سینئرحکام سے مشاورت کر رہے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر میں بھی زلمے خلیل زاد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے افغان مفاہمتی عمل اور طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھ کر طالبان کو مذاکرات کی میز پرلانے اور افغان امن عمل میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔