پاکستانی ہم جماعت لڑکی کو چھری سے گھائل کرنے والا جیل کی سلاخوں کے پیچھے

خدیجہ صدیقی پر چھریوں کے وار کرنے والے مجرم شاہ حسین کی سات سال کی سزا برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر ان کے ہم جماعت کی طرف سے چھریوں کے وار کرنے کے واقعے سے متعلق مقدمے میں مجرم شاہ حسین کو بری کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مجرم کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے لاہور کے سیشن جج کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں ماتحت عدالت نے مجرم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو گرفتار کر کے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کردیا گیا ہے جہاں سے انھیں لاہور منتقل کردیا جائے گا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس واقعے سے متعلق سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے لیے گئے از خود نوٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

میڈیا پر فیصلے کے حوالے سے اپنا ردعمل بیان کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ ’’آج ہر عورت کی فتح ہوئی ہے۔ ہرکسی کو پتہ چلا ہے کہ آواز اٹھائی جائے تو فتح ملتی ہے۔‘‘

خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’سب سے پہلے اللہ تعالی کی ذات کا شکر ادا کرتی ہوں۔ آج ہر عورت کی فتح ہوئی ہے۔ ہر کسی کو پتا چلا ہے کہ آواز اٹھائی جائے تو فتح ملتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’وہ اپنے وکلا اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتی ہیں، انہیں انصاف کی فراہمی میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔‘‘یاد رہے کہ مجرم شاہ حسین نے اپنی ہم جماعت خدیجہ صدیقی پر2016ء میں خنجر کے23وار کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں