ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹس پر سینئر صحافی رضوان رضی ایف آئی اے کے زیرِ حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' نے معروف صحافی اور اینکر رضوان الرحمن رضی کو لاہور سے حراست میں لے لیا ہے۔رضوان رضی نجی ٹی وی چینل 'دن نیوز' سے منسلک اور ٹوئٹر پر خاصے سرگرم تھے لیکن ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل ہے۔

رضوان رضی کے صاحبزادے اسامہ رضی نے اپنے والد کے فیس بک اکاونٹ پر سٹیس اپ ڈیٹ کے ذریعے انکشاف کیا کہ ہفتے کی صبح ساڑھے دس بجے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان کے گھر پر بعض نامعلوم افراد آئے تھے جنہوں نے ان کے والد پر تشدد کیا اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔اسامہ رضی نے بتایا کہ ان کی والدہ اور اہلِ محلہ نے فائر کی آواز بھی سنی۔ان کے بقول بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد کو ایف آئی اے کے شادمان تھانے منتقل کیا گیا ہے۔اسامہ رضی نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے والد کی گرفتاری میں کسی ایجنسی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے رضوان رضی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوج اور عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق رضوان رضی کو پیر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ رضوان رضی کو نو فروری بروز ہفتہ گرفتار کیا گیا جبکہ ایف آئی اے کی مدعیت میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق انہیں 8 فروری کو گرفتار کیا گیا۔سوشل میڈیا پر رضوان رضی کی ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

رضوان رضی سینئر صحافی ہیں۔ دن ٹی وی کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سے پہلے وہ دی نیوز، ڈان ٹی وی، دی ڈیلی نیشن، سی این بی سی اور ڈیلی بزنس ریکارڈر سمیت کئی صحافتی اداروں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا ریڈیو پروگرام دادا پوتا شو بھی عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں کو دلچسپی سے پڑھتی رہی ہے۔

لاہور پریس کلب سے ہفتے کی صبح جاری کیے جانے والے ایک مذمتی بیان میں رضوان رضی کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ ہفتے کی سہ پہر صحافتی تنظیموں نے اپنے مطالبات کے حق میں اور رضوان رضی کی گرفتاری کے خلاف پریس کلب کے باہر دھرنا دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صحافی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ رضوان رضی کو جس طرح گرفتار کیا گیا ہے اس سے پاکستانی صحافیوں کو ایک پیغام دیا گیا ہے۔ ان کے بقول اب ملک میں صحافیوں کی جان اور مال بھی محفوظ نہیں۔

صحافتی تنظیوں کے مطابق رضوان رضی کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ایک صحافی ہیں، ’’اگر ان کے خلاف کوئی الزام تھا تو بھی قانون کے مطابق ہی کارروائی کی جانی چاہیے تھی۔‘‘اس موقع پر صحافیوں نے "غنڈہ گردی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی" اور "آزادی صحافت تک جنگ رہے جنگ رہے گی" کے نعرے بھی لگائے۔

رضوان رضی کی گرفتاری کے خلاف حکومت اور سکیورٹی اداروں پر سوشل میڈیا میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور اس اقدام کو آزادیٔ اظہار کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ سارا دن رضی دادا کو رہا کرو ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی رضوان رضی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چوہدری منظور نے کہا ہے کسی کو گھر سے اٹھا لینا کہاں کا انصاف ہے؟مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رضوان رضی کی گرفتاری پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارد بھی جمع کرا دی گئی ہے۔

ن لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رضوان رضی کی گرفتاری اظہارِ رائے پر پابندی کی بدترین مثال ہے۔

گرفتاریوں پر حکمران جماعت تحریکِ انصاف کا باقاعدہ ردِ عمل دینے کے لئے کوئی حکومتی ترجمان تیار نہیں تاہم تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر سرگرم حامی ان گرفتاریوں پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں