شہباز شریف کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی دو ریفرنس میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اُنھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے ملزم کے وکیل کو دس، دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ میاں شہباز شریف کو نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں گذشتہ برس اکتوبر میں گرفتار کیا تھا۔شہباز شریف کی ضمانت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے منظور کی۔

جمعرات کو سابق وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز سے متعلق قومی احتساب بیورو کے ریفرنسز میں ضمانت پر رہائی کی مخالفت کی۔

نیب کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سرکاری اداروں کے کام میں مداخلت کی۔

عدالت نے شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز کے علاوہ اس علاقے میں پانی کی فراہمی کی کوئی اور اسکیم بنائی گئی ہے؟ اس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ محلہ فتح آباد، مقصود آباد سمیت چنیوٹ کے دیگر اضلاع میں ایسی ہی اسکیمیں بنائی گئیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف کی ضمانت مسترد کردیں تو پھر کوئی رکنِ اسمبلی ترقیاتی کام ہی نہیں کرائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں منتخب نمائندوں کے ووٹرز تو آئیں گے۔ ہم نے دیکھنا ہے یہ تمام تحقیقات کن پیرا میٹرز پر ہو رہی ہیں۔ وجہ تو اسکے پیچھے کوئی اور ہے۔

شہباز شریف کے وکیل کا اپنے دلائل میں مزید کہنا تھا کہ آشیانہ اسکیم میں شہباز شریف مرکزی ملزم نہیں ہیں۔ نیب نے ضمنی ریفرنس میں شہباز شریف کو ملزم نامزد کیا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد مختصر وقت کے لیے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد میں فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف کی دونوں درخواستیں منظور کر لیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں