سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی بدعنوانیوں کے الزام میں اسلام آباد میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے قومی احتساب بیورو( نیب) نے صوبہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کو بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہوٹل سے گرفتار کر لیا ہے۔ان پر آمدن کے معلوم ذرائع سے زیادہ مالیت کے اثاثے رکھنے اور سرکاری رقوم میں خرد برد کے الزامات ہیں ۔

نیب کے حکام نے بتایا ہے کہ سراج درانی کی سندھ سے روانگی کا انتظار کیا گیا ہے کیونکہ اگر انھیں اس صوبے کے دارالحکومت کراچی یا کسی اور جگہ سے گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی تو ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکارو ں اور نیب کے حکام کے درمیان مسلح تصادم کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔

نیب حکام نے مزید کہا ہے کہ اہم عہدوں پر فائز منتخب عہدے داروں کو نیب اس لیے گرفتار کررہا ہے کیوں کہ وہ عدم گرفتاری کی صورت میں حکومتی عہدوں پر فائز ہونے کی وجہ سے تحقیقات کے عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

اسپیکر درانی کی وفاقی دارالحکومت سے گرفتاری نیب کی کراچی شاخ، نیب راول پنڈی اور بیورو کے شعبہ سراغرسانی کے باہمی تعاون کے نتیجے میں عمل آئی ہے۔نیب نے قبل ازیں ایک پریس ریلیز میں بتایا تھا کہ گرفتار ملزم کو جمعرات کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان سے مزید پوچھ تاچھ کے لیے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

تاہم شام کے وقت نیب نے انھیں احتساب عدالت میں جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا اور ان کے سات روزہ ٹرانزٹ ریمانڈ کی ا ستدعا کی تھی لیکن انھوں نے صرف تین دن کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا ہے اور انھیں تین روز میں کراچی میں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے آغا سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی جماعت ’’ بے نامی وزیراعظم ‘‘ کو ’’ بے وردی آمریت ‘‘قائم نہیں کرنے دے گی ‘‘۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’’ ایک وفاقی یونٹ کے اسپیکر پر حملہ ناقابل قبول ہے ۔سندھ حکومت کو ہٹانے کی ایک غیر جمہوری کوشش کی جارہی ہے لیکن یہ پہلے کی طرح ناکامی سے دوچار ہوگی‘‘۔

واضح رہے کہ نیب نے گذشتہ سال جولائی میں سراج درانی کے خلاف مختلف الزامات کی تین تحقیقات کی منظوری دی تھی۔ان میں پہلی انکوائر ی کا تعلق ان کے آمدن کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثوں کی چھان بین سے ہے ۔دوسری تفتیش کا تعلق 352 افراد کے مختلف سرکاری محکموں میں غیر قانونی تقرر سے ہے۔ آغاسراج درانی نے ان افراد کو مختلف محکموں میں میرٹ سے ہٹ کر بھرتی کرایا تھا۔

ان کے خلاف تیسری انکوائری کا تعلق سرکاری خزانے میں خرد برد اور بدعوانیوں سے ہے۔انھوں نے مبینہ طور پر سندھ اسمبلی کی نئی عمارت اور ایم پی اے ہوسٹل کی تعمیر کے لیے مختص سرکاری رقوم میں غبن کیا تھا ۔اس کے علاہ انھوں نے اس منصوبے کے لیے خود ہی پراجیکٹ ڈائریکٹروں کا بھی تقرر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں