.

بھارت اب ہمارے ایک مختلف ردعمل کا انتظار کرے: پاکستان

اگر 350 دہشت گرد مارے گئے تو ان کی لاشیں کہاں ہیں؟آئیں اور 21 منٹ فضائی حدود میں رہ کر دکھا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل آصف غفور نے حدِ متارکہ جنگ ( کنٹرول لائن) کی خلاف ورزی سے متعلق بھارت کے دعووں کا پردہ چاک کردیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت اب ہمارے ذرا مختلف ردعمل کا انتظار کرے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’ بھارتی فوج کے لڑاکا طیاروں نے منگل کو علی الصباح مظفر آباد سیکٹر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی تھی جس کا پاکستانی فضائیہ نے فوری جواب دیا تھا اور بھارتی لڑاکا طیارے پھر واپس چلے گئے تھے‘‘۔

انھوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ آج وزیراعظم نے ہر کسی سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ہم سب چوکس ہیں ۔اب بھارت کے لیے یہ وقت آگیا ہے کہ وہ ہمارے ردعمل کا انتظار کرے‘‘۔

انھوں نے وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اس بیان کا اعادہ کیا ہے کہ ’’ اب ہم اپنے انتخاب کے مطابق ردعمل ظاہر کریں گے اور وہاں جواب دیں گے جہاں ہماری سول اور فوجی قیادت فیصلہ کرے گی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا فیصلہ کر لیا گیا ہے‘‘۔

میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران میں ایک پریزنٹیشن دی ہے اور اس میں بھارت کی پاکستان کے علاقے میں دراندازی سے متعلق دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔انھوں نے کہا:’’ بھارتی فضائیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بالا کوٹ میں جیش محمد کے ایک بڑے تربیتی کیمپ پر حملہ کیا ہے۔وہ یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ پاکستان کی فضائی حدود میں 21 منٹ تک رہے تھے اور انھوں نے ساڑھے تین سو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔انھوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دوسرا حملہ مظفرآباد اور تیسرا چکوٹھی پر کیا تھا‘‘۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ اللہ بہت بڑا اور عظیم ہے۔ہمیں اتنے بڑے دعوے نہیں کرنے چاہییں لیکن آپ ( بھارتی) آئیں اور پاکستان کی فضائی حدود میں 21 منٹ تک رہ کر دکھائیں‘‘۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا:’’ جنگ کے طریق کار کے مطابق ہماری تمام فضائیہ تو محو پرواز نہیں ہوسکتی تھی ۔برسرزمین ہم نے پیشگی حفاظتی تدابیر اختیار کررکھی تھیں ۔اس لیے اگر انھوں نے زمینی دراندازی کی کوشش کی ہوتی تو انھیں یقینی طور پر ہمارا جواب بھی مل جاتا‘‘۔

انھوں نے بتایا :’’ گذشتہ شب ہمارے راڈارز ان کے طیاروں کی نگرانی کررہے تھے۔وہ پہلے ہماری سرحد کے نزدیک آئے تھے لیکن انھوں نے اس کو عبور نہیں کیا تھا۔انھیں پہلی مرتبہ سیال کوٹ اور لاہور کے سرحدی علاقے میں دیکھا گیا تھا۔وہ سرحد کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن ہماری فضائی گشتی ٹیم نے انھیں چیلنج کیا اور پھر انھوں نے سرحد کو عبور نہیں کیا‘‘۔

انھوں نے صحافیو ں کو بتایا کہ بھارتی لڑاکا طیاروں نے بہاول پور کے سرحدی علاقے کی جانب سے بھی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی لیکن وہاں ہمارے لڑاکا طیارے چوکس تھے ۔پھر انھوں نے وادی کرن سے مظفرآباد سیکٹر کا رُخ کیا ۔جب ہماری فضائی گشت ٹیم نے انھیں چیلنج کیا تو اس وقت انھوں نے ایل او سی کو عبور کر لیا تھا۔ان کے سرحدی علاقے میں پہنچنے اور پاکستانی طیاروں کے چیلنج کرنے کے بعد انھیں واپسی تک چار منٹ کا وقت لگا تھا۔

’’انھوں نے کسی فوجی کو ہدف کا نشانہ نہیں بنایا ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا تو انھیں پھر جواب بھی مل جاتا مگر بھارت کا یہ مقصد نہیں تھا کیوں کہ وہ جب کبھی آزاد کشمیر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ شہری آبادی ہی کو نشانہ بناتا ہے۔وہ ایک ایسی جگہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جہاں عام شہری ہدف بنیں تا کہ وہ یہ دعویٰ کرسکیں کہ انھوں نے دہشت گردوں کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے‘‘۔

فوجی ترجمان نے مزید بتایا کہ بھارتی طیاروں نے ضلع مانسہرہ میں بالاکوٹ کے نزدیک واقع علاقے جبہ میں ایسے ہی چار بم گرادیے تھے اور پھر واپس چلے گئے تھے۔ان طیاروں کی واپسی کے بعد جب ہم نے برسرزمین اپنے مواصلاتی ذرائع سے صورت حال کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ وہاں کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کے بالاکوٹ میں ساڑھے تین سو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے ۔انھوں نے صحافیوں کو پیش کش کی کہ وہ انھیں اس علاقے میں لے جانے کے لیے تیار ہیں اور وہ خود وہاں جا کر زمینی صورت حال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر بھارتی فضائی حملے میں دس افرا د بھی مارے گئے ہیں تو ان کی لاشیں کہاں ہیں ، ان کے خون کا کیا ہوا ،ان کے چیتھڑے کدھر گئے؟انھوں نے کہا کہ وہ غیرملکی سفیروں اور فوجی اتاشیوں کو بھی متعلقہ جگہ دکھانے کو تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور آپ نے ماضی میں بھی بھارت کے پہلے سرجیکل حملے کی حقیقت ملاحظہ کر لی تھی۔ہم بھارت کی کارروائی سے بالکل بھی حیران نہیں ہوئے اور اب ہم تمھیں ( بھارت کو ) حیران کریں گے اور ہمارا ردعمل بالکل مختلف ہوگا‘‘۔