.

بھارتی لڑاکا طیاروں کی جانب سے حد متارکہ کی خلاف ورزی

پاکستان ائر فورس کی جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے ’پے لوڈ‘ گرا کر لوٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے لڑاکا طیاروں نے منگل کی شب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں حد متارکہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ایک کیمپ پر حملے کا دعوی کیا ہے، جسے پاکستانی فضائیہ کی بروقت کارروائی کے بعد ناکام بنا دیا گیا۔

بھارت کے وزیر مملکت برائے زراعت گجندرا سنگھ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنڑول کے اس پار پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ایک مشتبہ کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

ادھر پاکستان کی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کے طیاروں نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مظفرآباد سیکٹر میں لائن آف کنٹرول عبور کی اور تین سے چار میل تک اندر آئے۔

منگل کی صبح اپنے ٹوئٹس میں فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بھارتی طیارے پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں فوراً ہی واپس چلے گئے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی طیاروں نے واپس جاتے وقت جلدی میں اپنا پے لوڈ (طیاروں پر موجود گولہ بارود) بھی گرادیا جو بالاکوٹ کے نزدیک ایک کھلے علاقے میں گرا ہے۔ فوجی ترجمان نے اس مقام کی تصاویر بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی ہیں جہاں ان کے مطابق بھارتی طیاروں کا 'پے لوڈ' گرا۔ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی عمارت کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے صورتِ حال پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا ہے جس میں صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

بھارت کا دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ

بھارت کی حکومت نے تاحال پاکستان کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردِ عمل نہیں دیا ہے۔لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے اہم تربیتی کیمپس پر بمباری کرکے انہیں تباہ کردیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'اے این آئی' کے مطابق اسے بھارتی فضائی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کارروائی میں میراج 2000 ساخت کے 12 طیاروں نے حصہ لیا جنہوں نے لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر 1000 کلو گرام بم گرائے اور انہیں مکمل طور پر تباہ کردیا۔ بھارتی ذرائع کے مطابق حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ کیا گیا۔

پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پار کارروائی کا دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارت کی وفاقی پولیس کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں 49 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری بھارتی کشمیر میں سرگرم مسلح تنظیم جیشِ محمد نے قبول کی تھی جس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستانی ہیں۔

بھارت نے حملے کی ذمہ داری براہِ راست پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اسے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرچکا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔