.

یورپی یونین کی پاکستان اور بھارت سے ’’زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل‘‘ کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے ۔اس نے یہ بیان بھارت کے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں منگل کو علی الصباح ایک کیمپ پر مبیّنہ فضائی حملے کے بعد جاری کیا ہے۔بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اس حملے میں جنگجو گروپ جیش محمد کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا ہے اور اس کو تباہ کردیا ہے۔

یورپی یونین کی خاتون ترجمان ماجا کوچی جانچیک نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم دونوں ممالک سے رابطے میں ہیں ۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو مزید بڑھاوا دینے سے گریز کریں‘‘۔

قبل ازیں بھارت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے ضلع مانسہرہ میں جیش محمد کے ایک تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا ہے ۔وہاں جنگجوؤں کو اس کے شہروں پر خود کش حملوں کی تربیت دی جارہی تھی۔اس حملے میں جیش کے بہت سے جنگجو مارے گئے ہیں۔بھارتی حکام اور میڈیا نے ان ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین سو تک بتائی ہے مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں اس تعداد کا علم کیسے ہوا ہے۔

پاکستان کے سول اور فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی طیاروں نے ان کے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور بالاکوٹ میں کچھ مواد گرایا ہے ۔انھوں نے اپنی فضائی حدود کی اس خلاف ورزی کی مذمت کی ہے مگر انھوں نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ اس فضائی حملے میں بھاری جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔علاقے کے مکینوں نے بھی بھارت کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں 14 فروری کو ایک خودکش بم دھماکے کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔بھارتی سکیورٹی فورسز پر اس کار بم حملے میں چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار جیش محمد نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس واقعے کے بعد سے بھارت پاکستان کے خلاف جنگی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا تھا۔