.

پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارت کے دو طیارے مار گرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ فوج اور دفتر خارجہ نے بھارتی حدود کے اندر ہونے والی اس کارروائی کی تصدیق کر دی ہے, تاہم پاکستانی طیاروں نے لائن آف کنڑول عبور نہیں کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق بھارت کو پہلا سرپرائز دیتے ہوئے 2 انڈین طیارے مار گرائے۔ ایک طیارے کا ملبہ بھارتی حدود جبکہ دوسرے کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا، 2 پائلٹ بھی ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا بیان

دفتر خارجہ نے حملے کی تصدیق کر دی۔ ذرائع کے مطابق ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستانی جنگی طیاروں کی کارروائی انڈیا کی جانب سے جاری جنگی جارحیت کا ردعمل نہیں ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان نے غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور جانی نقصان اور کولیٹرل ڈیمج سے بچا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا واحد مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق اور صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا لیکن اگر ایسا ہوا تو وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسی سلسلے میں دن کی روشنی میں کارروائی کی گئی تاکہ واضح تنبیہ کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر بھارت بغیر ثبوت دیے دہشت گردوں کی نام نہاد پشت پناہی کا الزام لگا کر حملہ کر سکتا ہے تو ہم بھی حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ان عناصر کو نشانہ بنائیں جنھپیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے انڈیا کی آشیرباد حاصل ہے۔‘

تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اس راستے پر نہیں چلنا چاہتا اور پرامید ہے کہ انڈیا امن کو ایک موقع دے گا۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی

ادھر بدھ کی شام وزیر اعظم نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ’’این سی اے‘‘ کی میٹنگ بلا لی ہے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا مقصد پاکستان کی بری، فضائی اور بحری افواج کی مشترکہ حکمت عملی اور اس کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے لیکن اس کا اہم ترین مقصد پاکستان کے جوہری اسلحے کی نگہبانی اور اسے استعمال کرنے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں کے لیے ہے۔

این سی اے کا قیام سنہ 2000 میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا تھا اور اس میں سویلین اور عسکری قیادت دونوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

این سی اے کا چئیرمین کا عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، اور وزیر برائے دفاعی پروڈکشن بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

عسکری نمائندگی کرنے والوں میں جوائنٹ چیف آف سٹاف کے علاوہ تینوں افواج کے سربراہ اور پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی رکھوالی کرنے والے مخصوص ادارے سٹریٹیجک پلان ڈیویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر بھی شامل ہوتے۔ این سی اے کے سیکریٹری کا عہدہ بھی انھی کے پاس ہوتا ہے۔

آخری دفعہ این سی اے کا اجلاس دسمبر 2017 میں ہوا تھا۔ بدھ کو ہونے والا اجلاس 24واں موقع ہوگا جب اس اتھارٹی کے نمائندہ اکھٹے ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب عمران خان این سی اے کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

این سی اے کے اجلاس میں پاکستانی جوہری اسلحہ، جوہری تنصیبات، اس کے استعمال اور نگہبانی کے حوالے سے فیصلے لیے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ لیا جاتا ہے کہ جوہری حملے کی صورت میں پاکستان کے پاس جواب دینے کے لیے کیا آپشنز ہیں اور جوہری اور کیمیائی حملے سے بچاؤ کے لیے کیا کرنا ہوگا۔

بالاکوٹ پر انڈین جارحیت کے بعد این سی اے کا اجلاس طلب کرنا کافی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان انڈیا کو جواب دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا سکتا ہے۔