.

پاکستان اور بھارت دانش مندی اور مذاکرات سے کشیدگی کا خاتمہ کریں: شیخ محمد بن زاید

ابو ظبی کے ولی عہد کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے جمعرات کو وزیراعظم پاکستان عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر الگ الگ بات چیت کی ہے اور ان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

شیخ محمد نے دونوں ممالک کے درمیان اس تشویش ناک پیش رفت کے خاتمے اور دوطرفہ کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات اور روابطہ کے ذریعے اس کشیدگی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مثبت تعلقات کی حمایت کرے گا ۔ دونوں میں مشترکہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہے اور یہی امر انھیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔

شیخ محمد نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یو اے ای بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں امن واستحکام کو یقینی بنانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انھوں نے دونوں ممالک کی قیادت پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں گذشتہ چند روز کے دوران میں ہونے والی پیش رفت سے نمٹنے کے لیے پُر امن مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں حالیہ پیش رفتوں سے دانش مندی سے نمٹنے اور مذاکرات اور روابط کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے یہ پیغام ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے ملک کی حدود میں پکڑے گئے بھارتی فضائیہ کے پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو جمعہ کے روز رہا کر کے بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاک فضائیہ نے بدھ کی صبح اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھارت کا ایک لڑاکا طیارہ آزاد کشمیر میں مار گرایا تھا ۔اس کے پائیلٹ ابھی نندن کو مقامی لوگوں نے پکڑ لیا تھا اور پھر فوج کے حوالے کردیا تھا۔پاک فضائیہ نے بھارت کا ایک اور لڑاکا طیارہ بھی مار گرایا تھا لیکن اس کا ملبہ کنٹرول لائن کے اس پار بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بڈگام میں گرا تھا۔

بھارت کے لڑاکا طیاروں کی منگل کو علی الصباح پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بالاکوٹ کے علاقے میں ایک غیر آباد جگہ پر بم گرائے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہے۔ امریکا ، چین اور دوسری عالمی طاقتوں نے دونوں ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ضبط وتحمل سے کام لیں اور تنازع کو مزید بڑھا وا دینے سے گریز کریں۔