.

پاک بحریہ کا بھارتی آبدوز کی پاکستانی پانیوں میں داخلے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک بحریہ نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز کی پاکستان کے پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاک بحریہ کے ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ بحری فوج نے اپنی خصوصی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارتی آبدوز کو ملک کی آبی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ترجمان نے کہا کہ اگر پاکستان کی ضبط و تحمل کی پالیسی نہ ہوتی تو اس آبدوز کو بآسانی تباہ کیا جا سکتا تھا لیکن ہم موجودہ کشیدہ ماحول میں امن کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق 2016ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب بھارت کی ایک آبدوز نے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔پاکستان کے علاقائی پانیوں کی حدود 12 ناٹیکل میل ہے اور اس کا سمندری علاقہ دو لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔اس میں پیشگی اطلاع یا پاکستان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوا جا سکتا ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بحریہ پاکستان کی بحری حدودکے تحفظ کی صلاحیت کی حامل ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دے سکتی ہے۔یہ واقعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حدِ متارکہ جنگ ( لائن آف کنٹرول) پر گذشتہ ہفتے سے جاری کشیدگی کے بعد پیش آیا ہے۔

بھارت کے لڑاکا طیاروں نے 26 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع تحصیل بالاکوٹ میں ایک کھلے میدان پر بم گرائے تھے اور وہ اپنے مبیّنہ مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ لڑاکا طیاروں نے بالاکوٹ کے نواح میں جنگجو تنظیم جیش محمد کے زیر اہتمام ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا تھا اور اس میں تین سا ڑھے تین سو مبیّنہ جنگجو مارے گئے تھے لیکن انھوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

اس سے اگلے روز کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر پاک فضائیہ نے بھارت کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے تھے ۔ان میں ایک طیارے کے پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن گذشتہ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کے تحت اس پائیلٹ کو رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا گیا تھا۔