.

کالعدم گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن ، مسعوداظہر کے بھائی ،بیٹے سمیت 44 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں سکیورٹی اداروں نے کالعدم جنگجو گروپوں اور تنظیموں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت نیا کریک ڈاؤن شروع کیاہے اور کالعدم جہادی گر وپ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی اور بیٹے سمیت چوالیس مشتبہ افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔

پاکستان کے وزیر مملکت برائے امور داخلہ شہریار آفریدی اور سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان خان نے منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ جنگجو گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے پہلے روز مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق کے الزام میں چوالیس افراد کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ان میں مولانا مسعود اظہر کے بھائی عبدالرؤف اور بیٹا حماد اظہر بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ جیش محمد نے گذشتہ ماہ بھارت کے زیر انتظام متنازع علاقے کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سکیورٹی فورسز پر ایک خود کش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں بھارتی پولیس کے پینتالیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور بھارت پاکستان سے جیش محمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے۔

اس واقعے کے تناظر میں پاکستان کی وزارت داخلہ میں 4 مارچ کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا ۔اس میں صوبائی حکومتوں کے نمایندوں نے بھی شرکت کی تھی۔اس میں قومی لائحہ عمل ( نیپ) پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا تھا۔وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں مشتبہ جنگجو گروپوں کے خلاف یہ کارروائیاں جاری رہیں گی‘‘۔

شہریار آفریدی اور سیکریٹری داخلہ نے بھی نیوز کانفرنس میں اس امر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جارہی ہے اور ہم یہ تاثر نہیں دینا چاہتے ہیں کہ اس کریک ڈاؤن میں کسی خاص تنظیم کو ہدف بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ عبدالرؤف اور حماد اظہر سمیت جن بعض افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان کے نام بھارت کی جانب سے پاکستان کو پلوامہ حملے سے متعلق فراہم کردہ دستاویز میں شامل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ، جن کے نام اس دستاویز کے ذریعے بھارت نے فراہم کیے ہیں۔

وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ کالعدم گروپوں کے خلاف یہ کارروائی کسی ملک کے دباؤ کے تحت نہیں کی جارہی ہے بلکہ یہ پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے اور یہ دو ہفتے تک جاری رہے گی۔اس کے بعد تمام تفصیل سے متعلقہ فریقوں کو آگاہ کیا جائے گا۔