.

ہندو برادری کےخلاف توہین آمیزبیان ،پنجاب حکومت نے وزیراطلاعات فیاض چوہان کوچلتا کیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان سے ہندو برادری کے خلاف توہین آمیز بیان پر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے استعفا لے لیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ان کا استعفا منظور کر لیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے ایک بیان میں کہا کہ عثمان بزدارنے فیاض الحسن چوہان کے بیان سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی ہے اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کسی ایسے بیان کی اجازت نہیں دے گی جس سے رنگ، نسل، مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی کی دل شکنی ہو۔

ترجمان کے مطابق عثمان بزدار نے منگل کے روز فیاض چوہان سے ملاقات میں انھیں اپنی ناراضی سے آگاہ کیا اور اس کے بعد فیاض چوہان نے وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ان کے بیان کا سخت نوٹس لیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب کو فوری کارروائی کا حکم دیا تھا۔

مستعفی وزیر اطلاعات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں لاہور میں ایک تقریب میں تقریر کے دوران میں ہندو برادری کے حوالے سے بلاامتیاز نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا ۔ اقلیتی برادری نے خاص طور پر اس اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی مذہب سے وابستگی کی بنیاد پر وطن سے محبت کے حوالے سے بلا جواز سوال اٹھائے جارہے ہیں اور ان کی توہین کی جارہی ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے ایک ویڈیو پیغام میں قبل ازیں یہ وضاحت کی تھی کہ’’ میری آج ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات ہوئی ہے۔میں نے انھیں اپنے بیان سے متعلق وضاحت دے دی ہے اور میرے استعفے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ۔ میرا بیان پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بھارتی افواج اور وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تھا۔ میں پاکستان میں آباد ہندو برادری سے معذرت کر چکا ہوں ۔ میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں کام کرتا رہا ہوں گا‘‘۔

تاہم بعد میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر یہ اطلاع دی گئی ہے کہ فیاض الحسن چوہان مستعفی نہیں ہوئے بلکہ انھیں پنجاب حکومت نے ہند و برادری کے خلاف توہین آمیز بیان پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔وزیراعظم عمرا ن خان کے علاوہ بعض وفاقی وزراء نے بھی مسٹر چوہان کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ جماعت میں رنگ ونسل ،فرقے ا ور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔رواداری پاکستان کے قیام کا ایک اہم اساسی اصول ہے۔