.

کرائس چرچ حملے میں شہید نعیم رشید کو بہادری پرپاکستان کا اعلیٰ اعزاز دینے کا اعلان

نعیم رشید نے زخمی ہونے کے باوجود کرائس چرچ کی مسجد میں سفیدفام دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں سفید فام دہشت گرد کے حملے میں شہید ہونے والے نعیم رشید کو بعد از مرگ ان کی بہادری پر ملک کا اعلیٰ اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔

نعیم رشید نے کرائس چرچ کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت حملہ کرنے والے سفید فام مسیحی دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔وہ اس دوران میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے لیکن انھوں نے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش ترک نہیں کی تھی۔اس دہشت گرد نے نیم خودکار رائفل سے دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس سے کم سے کم پچاس نمازی شہید اور اتنے ہی زخمی ہوگئے تھے۔دفتر خارجہ نے حملے میں نو پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

انتہا پسند حملہ آور کرائس چرچ کی دو نوں مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ کرتے وقت ویڈیو بھی ساتھ ساتھ بنا رہا تھا ۔اس نے ممکنہ طور پر بندوق یا اپنے ماتھے پر کیمرا لگا رکھا تھا۔اس کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہونے کے باوجود حملہ آور کی طرف بڑھنے اور اس کو روکنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ دوسرے نمازی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔

بعد میں ویڈیو میں نظر آنے والے اس بہادر شخص کی شناخت نعیم رشید کے نام سے کی گئی ہے۔ویڈیو کی فوٹیج میں ان کے چہرے کو چھپا دیا گیا ہے۔وہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کے رہنے والے تھے۔ فائرنگ کے اس واقعے میں ان کا بیٹا طلحہ نعیم بھی شہید ہوگیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ پاکستان کو میاں نعیم رشید پر فخر ہے۔وہ سپر ماسِسٹ دہشت گرد کو روکنے کی کوشش کے دوران میں شہید ہوگئے تھے۔ان کی اس دلیری اور شجاعت کے اعتراف میں انھیں قومی اعزاز سے نوازا جائے گا‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ملک وقوم کی خدمت ، دفاع اور تحفظ میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہریوں کو متعدد اعزازات دیے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ شہید نعیم رشید کو کس اعزاز سے نوازا جائے گا۔ تاہم ٹویٹر ہی پر بعض شہریوں نے انھیں تمغا شجاعت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نعیم رشید کے بڑے بھائی خورشید عالم نے ایبٹ آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے اپنے بھائی پر فخر ہے۔وہ اپنی جان بچا جاسکتے ہیں لیکن انھوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دوسرے نمازیوں کو بچانے کی کوشش کی۔ وہ ایک بہادر انسان تھے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے بھائی اور بھتیجے کو نیوزی لینڈ ہی میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ان کا خاندان ویزوں کا منتظر ہے تاکہ وہ اپنے پیاروں کی تجہیز وتکفین کے لیے جلد سے جلد نیوزی لینڈ جاسکے مگر انھیں ابھی تک ویزوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔