.

بھارت، پاکستان پر ایک اور حملے کا منصوبہ بنارہا ہے: شاہ محمود قریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے ملک کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت، پاکستان پر ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں۔ ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت، پاکستان میں ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ کارروائی 16 سے 20 اپریل کے درمیان کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بہانے کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں پلواما جیسا واقعہ بھی کرا سکتا ہے۔ ان کے بقول ’’خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو خطے پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا اپنی اس تشویش کوعالمی برادری سے آگاہ کریں اس لئے سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے۔ عالمی برادری بھارت کے اس غیر ذمہ دار رویے کا نوٹس لے۔ خطے میں امن کے لیے عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد 26 فروری کو بھارت جب کارروائی کرتا ہے اس پر دنیا خاموش رہتی ہے۔ کئی ذمے دارممالک سمیت دنیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم ہم اتنے بھی ناسمجھ نہیں کہ عالمی براداری خاموش کیوں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ 3 دہشت گرد کیمپس تباہ کیے۔ بھارت نے کارروائی میں 350 کے لگ بھگ دہشت گردوں کو مارنے اور ایک ایف سولہ طیارہ بھی گرانے کا دعویٰ کیا۔ بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا۔ مودی سرکار ایک بھی لاش نہیں دکھا سکی۔ پاکستان نے ایف 16 گرانے کے دعوے کی بھی تردید کی اور اب امریکا نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے پاس ایف 16 طیارے پورے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کشیدگی کو بڑھاتا رہا اور پاکستان کشیدگی کم کرتا رہا۔ ہم نے بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کر کے ہواباز ابھے نندن کو واپس بھجوایا اور امن کا پیغام دیا۔ واہگہ بارڈرکی میٹنگ بھی بھارت نے منسوخ کی جب کہ ہم نے مزید 360 بھارتی مچھیروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ اور بھارت نے غیرذمہ دارانہ رویہ اپنایا تاہم عالمی برادری خاموش تماشائی بننے کے بجائے کردار ادا کرے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے۔ سکریٹری خارجہ نے چین، امریکا، برطانیہ و دیگرممالک سے رابطہ کیا ہے۔ نہیں چاہتے بھارت حملے کی حماقت کرے۔ ہم زندہ قوم ہیں، اپنےدفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد حقائق قوم اور عالمی برادری کےسامنے لانے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کی جا رہی ہے۔ بھارت کی جارحانہ کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اور بڑھ گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آواز کو بے دردی سے کچلا جا رہا ہے تاہم پاکستان مقبوضہ کشمیر کے متاثرین کے ساتھ تھا اور ہے۔