.

آیئے! آپ کو بصارت سے محروم صحافی عماد یوسفزئی سے ملوائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مشرقی شہر پشاور میں ایک ایسے باہمت نوجوان نے صحافت کو بطور پیشہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جو قوت بصارت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے علاقے بٹ خیلہ کے رہائشی عماد یوسفزئی نے حال ہی میں پشاور یونیورسٹی سے صحافت اور ابلاغ عامہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ گذشتہ ایک سال سے پشاور کے ایک مقامی انگریزی اخبار سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔تیئس سالہ عماد یوسفزئی بچپن سے ہی دونوں آنکھوں سے مکمل طورپر محروم ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عماد کا کہنا تھا 'جب وہ کسی تقریب کی کوریج کے لیے جاتے ہیں تو کوئی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ میں بھی ایک صحافی ہیں اور انگریزی اخبار سے وابستہ ہوں۔'انھوں نے کہا کہ انہیں بچپن سے صحافی بننے کا شوق تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی میں داخلہ لیا تاکہ باقاعدہ صحافی بن سکوں۔

پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل اور خطرناک پیشہ رہا ہے لیکن عماد یوسفزئی نے کبھی ان مشکلات کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا بلکہ ایک باہمت نوجوان کی طرح اس پیشے میں اپنا کرئیر بنانے کی کوششوں میں ہیں۔

'پہلے پہل جب میں ہاسٹل سے باہر فیلڈ کی طرف نکلتا تو دل میں بڑے وسوسے آتے تھے کہ کیسے اکیلے جاؤں گا کوئی ساتھ نہیں ہے، گاڑی نے ٹکر مار دیی تو کیا ہوگا، ایسے کئی سوالات ذہن میں پیدا ہوتے تھے لیکن اب میں نے ان مشکلات پر بہت حد تک قابو پالیا ہے۔'انھوں نے کہا کہ وہ باقاعدہ اپنے اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ کئی خبریں بھی شائع ہوچکی ہیں۔

عماد یوسفزئی ریڈیو پاکستان پشاور سے خصوصی افراد سے متعلق ایک ہفتہ وار شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں قومی ٹی وی چینل کا اینکر بننے کا بہت شوق ہے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ تمام معذوروں کےلیے ایک بڑا تحفہ ہو گا۔