.

ابراج گروپ کے اعلیٰ انتظامی عہدیدار سرمایہ کاروں سے فراڈ کے الزامات پر گرفتار

دھوکا دہی سے متاثرہ افراد اور اداروں کی فہرست میں گیٹس اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا نام بھی شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی تباہ حال پرائیویٹ ایکویٹی فرم ’’ابراج کیپیٹل لمیٹیڈ‘‘ کے چیف ایگزیکٹیو اور مینجنگ پارٹر کو اپنے سرمایہ کاروں سے فراڈ کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔امریکی فیڈرل پراسیکیوٹر کے مطابق ابراج کیپیٹل کی دھوکا دہی سے متاثرہ افراد کی فہرست میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس کی ’’گیٹس اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا نام بھی شامل ہے۔

مین ہیٹن فیڈرل کورٹ میں سماعت کے موقع پر امریکی اسسٹنٹ اٹارنی اینڈریا گریسوالڈ نے عدالت کو بتایا کہ ’’ابراج‘‘ کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو عارف نقوی کو گذشتہ جمعہ لندن جبکہ گروپ کے مینجنگ پارٹر مصطفیٰ عبدالودود کو جمعرات کے روز نیویارک کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا۔

سماعت کے موقع پر عبدالودود عدالت میں موجود تھے۔ انھوں نے سیکیورٹیز فراڈ، وائر فراڈ اور سازش کے الزامات کی صحت سے انکار کیا، تاہم ان کے وکیل بنجمن برافمین نے فوری طور پر اپنے موکل کی درخواست ضمانت دائر یہ کہتے ہوئے دائر نہیں کی کہ انہیں مقدمے کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی کے لئے وقت درکار ہے۔

گریسوالڈ کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر کو متذکرہ بالا الزامات کی بنا پر مسٹر نقوی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے انہیں امریکا لانے کی درخواست دینا ہو گی۔ نقوی کے ترجمان کیسے لارسن سے فوری طور پر اس پیش رفت سے متعلق ردعمل جاننے کے لئے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ابراج گروپ کے عارف نقوی کون ہیں؟

عارف نقوی کے قائم کردہ ابراج گروپ کو ان دنوں بحرانات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کا آغاز اس وقت ہوا جب سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے "ابراج" پر الزام عائد کیا کہ اس کی جانب سے طبّی دیکھ بھال کے شعبے میں کام کرنے والے نجی سرمایہ کاری فنڈز میں موجود رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس رقم کی مالیت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جمع کردہ معلومات کے مطابق عارف نقوی 13 جولائی 1960ء کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ "ابراج" گروپ کے بانی ہیں جو افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں بھاری سرمایہ کاری کے امور چلا رہی ہے۔

عارف نقوی نے 2002ء میں اپنی کمپنی قائم کی اور اس وقت کمپنی کے اصل اثاثوں کی مالیت صرف 6 کروڑ امریکی ڈالر تھی۔ تاہم وہ تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی اور 2017ء میں اس کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 13.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

اکیسویں صدی کے آغاز پر عارف نقوی نمودار ہوئے اور اچانک سے ایک مشہور شخصیت بن گئے۔ اس دوران اُن کے بارے میں یہ سوالات جنم لیتے رہے کہ وہ کس طرح پاکستان کے ایک غریب قصبے سے منتقل ہو کر خلیج کے علاقے میں ایک مشہور ترین کاروباری شخصیت بن گئے۔

عارف نے اپنے کام کے سفر کا آغاز کراچی میں "American Express" سے کیا۔ بعد ازاں وہ لندن چلے گئے اور وہاں امریکی کمپنی "آرتھر اینڈرسن" کی شاخ میں کام کیا۔ وہاں سے عارف نقوی کے خلیج کا رخ کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

خلیج میں عارف نقوی نے سب سے پہلے سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے 90ء کی دہائی کے آغاز میں "علیان گروپ" میں کام کیا جو اُس وقت مملکت میں بڑی تجارتی کمپنیوں میں سے ایک تھا۔ عارف جلد ہی متحدہ عرب امارات میں دبئی منتقل ہو گئے اور وہاں 50 ہزار ڈالر کی رقم سے 1994ء میں ایک کمپنی قائم کی۔

اس کے محض 5 برس بعد 1999ء میں عارف نے بڑی گاڑیوں کی کثیر القومی کمپنی کی مشرق وسطی کی شاخ کو خرید لیا، کمپنی کا صدر دفتر لندن میں ہے۔ اس موقع پر عارف نے 10.2 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی۔ کچھ عرصے بعد عارف نے اس کمپنی کے کچھ حصص 17.3 کروڑ ڈالر میں فروخت کر دیے۔ اس طرح ان کے پاس گاڑیوں کی کمپنی کے حصص کا ایک حصّہ باقی رہا اور ان کی لگائی گئی اصل رقم بھی واپس آ گئی۔ علاوہ ازیں انہوں نے 7.1 کروڑ ڈالر کا منافع بھی کمایا۔

سال 2002ء میں عارف نقوی نے "ابراج کیپیٹل" کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جو 2012ء میں "ابراج گروپ" میں تبدیل ہو چکی تھی۔ رواں برس مارچ سے یہ پاکستانی کاروباری شخصیت مشکلات میں گِھرنا شروع ہو گئی۔