.

نوجوانوں کو دین کے نام پر ورغلایا جا رہا ہے: شیخ عبداللہ عواد الجھنی

گمراہ لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں ،دینی مسائل کی رہنمائی علماء حق سے لیں: امام مسجد الحرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امام مسجد الحرام شیخ عبداللہ عواد الجھنی کا کہنا ہے’’کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی قوت ہوتے ہیں۔ معاشرے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ نوجوان اپنی قدر ومنزلت پہچانیں۔ انہیں دین کے نام پر ورغلایا جاتا ہے۔ نوجوان گمراہ لوگوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ دینی مسائل میں علماء حق سے رہنمائی حاصل کریں۔‘‘

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ نوجوانوں کو دین کے قریب اور فکری انحراف سے بچانے کے لیے سعودی عرب میں ایک سو ملین ریال کی لاگت سے ایک مرکزبنایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایمانی اور روحانی رشتہ ہے۔ منبر ومحراب سے نوجوانوں کی تربیت نہیں ہو رہی ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتیں بہت ہیں۔ گمراہ کرنے کے لیے میڈیا استعال ہو رہا ہے۔ معیشت کی مضبوطی کے بغیر آزاد خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی ۔ نوجوانوں کی تربیت کے لیے جامعات اور مدارس کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار امام مسجد الحرام شیخ عبداللہ عواد الجھنی نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام’’نوجوانان امت اور عصر حاضر کے چیلنجز ‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف سعید المالکی، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، سعودی وکیل ڈاکٹرعبداللہ، جامعہ اشریفہ لاہور کے سربراہ فضل الرحیم، صدر جامعہ ڈاکٹر یوسف الدرویش اور ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے بھی خطاب کیا۔

امام مسجد الحرام شیخ عبداللہ عوادالجھنی نے کہا کہ قران میں بیان کردہ انیباء کے قصے ہماری رہنمائی کے لیے ہیں۔ ان کی زندگی سے نوجوانوں کو رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ نوجوان معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قران وسنت سے روشن جواں عمری میں عبادت کا اللہ کے حضور خاص مقام ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ایمانی اور روحانی رشتہ ہے۔ پاک سعودی تعلقات دن بدن مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منبر ومحراب سے مسلمانوں کی تربیت نہیں ہو رہی ہے۔ ہمارے منبر ومحراب اس سے خالی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سب سے زیادہ نوجوان نسل کی تربیت پر زور دیا۔ اس تربیت کی وجہ سے حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ نے دنیا کوعدل کا نظام دیا۔ نوجوانوں میں قوم کی اہمیت کو اجاگرکرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں مذہب اور قوم میں کوئی فرق نہٰیں ہے اسے اجاگر کرنا ہمارا فرض ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل اسلاموفوبیا کا چیلنج درپیش ہے۔ اس کا علاج ایک ہی ہے کہ نوجوان نسل کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی نوجوانوں کی تربیت پر زور دیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب بھی اہم اعلان کرتے تو نوجوانوں ہی کے سامنے کرتے تھے۔ علامہ اقبال نے بھی نوجوانوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ اگر ہم نوجوانوں کی صحیح تربیت کرلیں تو دینا کی کوئی طاقت ان کو اپنے نظریے سے نہیں ہٹا سکتی۔ نوجوان معاشروں کو مستحکم رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے نوجوانوں کے اندر مسلمانوں والے جذبات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان مقاصد کو سامنے رکھ کرنصاب بنایا جائے کیونکہ جب قوموں کے ساتھ اس کے نوجوان کھڑے نہ ہوں تو ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس کی مثال روس ہمارے سامنے ہے کہ فوجی قوت کے باوجود وہ اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا۔ پاکستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتیں بہت ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے میڈیا استعال ہو رہا ہے۔ ان قوتوں کی موجودگی کے باوجود صحیح راستے پر چلنے والے نوجوانوں کی کمی نہیں۔ پیغام پاکستان بیانیہ کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت کی جا سکتی ہے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان پوری دنیا میں فکری انتشار کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ پرتشدد کارروائیوں کی طرف جاتے ہیں۔ صومالیہ میں پہلے ترقی یافتہ ممالک سے نوکری کے لیے آتے تھے اب وہاں حالات اس قدرخراب ہیں کہ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ یہی حال عرب سپرنگ کے بعد دیگر عرب ممالک کا ہوا، مگر خوش قسمتی سے پاکستان اس سے بچ گیا۔ جامعات کو نوجوانوں کوعتدال کی طرف لانے میں اہم کردارادا کرنا ہو گا۔ مکالمے کو فروغ کا کلچر اور پالیسی سازی میں نوجوانوں کولانا ہو گا ورنہ بہاولپور کی طرح کی واقعات رونما ہوں گے۔

پیغام پاکستان پر تمام مکاتب کے علماء متفق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مسلح اقدام ریاست کا ہی حق ہے اس طرح فکری انتشار کو صاف کر دیا گیا ہے۔ پیغام پاکستان کی صورت میں ایک دستاویز ہمارے سامنے آئی ہے جس پر تمام علما کے دستخط ہیں۔ سویلین اور عسکری قیادت بھی متفق ہے۔ اس کا اعزاز اسلامی یونیورسٹی کو جاتا ہے۔ تکفیریت اسلامی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، جامعات اور دینی اداروں نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ وہ دور سی پیک کا دور ہے۔ آئندہ کا پاکستان نوجوان نسل کا پاکستان ہے۔ سی پیک کے نتیجہ میں پاکستان بہتر معیشت آئے گی۔ ہمارا پاکستان ایک اعتدال کا پاکستان ہو تب جا کر بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ یہ ماحول جامعات نے بنانا ہے اس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو گی۔ معیشت کی مضبوطی کے بغیر آزاد خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک نئے دور میں داخل ہوئے ہیں مجھے یقین ہے کہ ہم پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔