.

میاں شہباز شریف کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کی نیب میں طلبی کے نوٹس منسوخ کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چئیرمین جاوید اقبال نے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کی ادارے میں تحقیقات کے لیے طلبی کے سمن منسوخ کر نے کا حکم جاری کیا ہے۔

نیب لاہور نے دو روز پہلے انھیں منی لانڈرنگ اور آمدن کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام میں تحقیقات کے لیے طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے اس کی تنسیخ کا حکم لاہور میں نیب کے دفتر کے دورے کے موقع پر جاری کیا ہے۔بیورو کے ایک بیان کے مطابق انھیں بدعنوانیوں کے بڑے کیسوں اور شریف خاندان کے خلاف دائر کیسوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود شریف خاندان کے خلاف کیسوں کی نگرانی کریں گے۔

پریس ریلیز کے مطابق جسٹس جاوید اقبال نے میاں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور دو شادی شدہ بیٹیوں ربیعہ عمران اور جویریہ علی کی نیب لاہور میں طلبی کے لیے جاری کردہ نوٹس منسوخ کر نے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ ان تینوں خواتین کو متعلقہ کیسوں سے متعلق سوال نامے بھیجے جائیں اور ان میں انھیں درکار معلومات فراہم کرنے کا کہا جائے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر شہباز شریف ، ان کی اہلیہ نصرت اور بیٹیوں ربیعہ اور جویریہ کو نیب لاہور نے آیندہ ہفتے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ انھیں سمن جاری کرنے پر مسلم لیگ نواز کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کڑی تنقید کی تھی اور اسی سیاسی محرک پر مبنی اقدام قرار دیا تھا۔

پی ایم ایل این نے کہا ہے کہ نیب حکام نے شریف خاندان کی ماڈل ٹاؤن اور ڈیفنس میں واقع اقامت گاہوں پر چھاپے مارے تھے لیکن نیب کا کہنا ہے کہ چند ایک عہدے دار صرف سمن پہنچانے کے لیے وہاں گئے تھے۔اس نے چئیرمین کے حوالے سے کہا ہے کہ نیب احتساب سب کے لیے ، کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تمام ملزمان نیب کی نظر میں برابر ہیں اور میگا کرپشن کے کیسوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔