وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر کا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم

سرحدی علاقے میں دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے مشترکہ سریع الحرکت فورس کے قیام پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سوموار کے روز تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات میں دونوں ملکو ں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور انھیں مزید فروغ دینے کے حوالے سے تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔

اس ملاقات کے بعد وزیراعظم نے صدر روحانی سے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ دہشت گردی دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی ہے اور ان میں اختلافات میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ان کے دورے کے ایجنڈے میں دہشت گردی کے مسئلے کو اولیّت حاصل ہے۔ پاکستان کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ دہشت گردی سے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گذشتہ بارہ تیرہ سال کے دوران میں ستر ہزار سے زیادہ انسانی جانیں دہشت گردی کی نذر ہوگئی ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے پر ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو سراہا جانا چاہیے۔ہم افغانستان سے زیادہ خوش قسمت واقع ہوئے ہیں۔ وہاں نیٹو کی افواج کی موجودگی اور مدد کے باوجود افغان سکیورٹی فورسز جنگجوئی پر قابو نہیں پاسکی ہیں جبکہ ہم نے عسکریت پسندی پر قابو پا لیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں تمام سیاسی طبقات اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کسی جنگجو گروپ کو پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ ملک بھر میں دہشت گرد گروپوں کا قلع قمع کیا ہے۔یہ کام کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر کی توجہ 18 اپریل کوصوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑا میں دہشت گردی کے حملے کی جانب مبذول کرائی ۔اس حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے مسلح افواج کے چودہ اہلکارو ں کو شناخت کے بعد قتل کردیا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو پاکستان کے سرحدی علاقےمیں بروئے کار دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا سامنا رہا ہے لیکن اس مسئلے کو دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی خلیج گہری ہونے سے قبل طے کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کے’ سکیورٹی سربراہ ‘کو اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مل بیٹھنا چاہیے اور تعاون کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان اس سطح تک اعتماد بحال ہو اور اتفاق رائے ہوجائے کہ وہ اپنی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن ایران اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے ۔وہاں جنگ سے یہ دونوں ممالک متاثر ہوئے ہیں اور دونوں ہی جنگ زدہ افغانستان میں پُرامن تصفیے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔انھوں نے مسئلہ کشمیر اور فلسطینی تنازع کے پُرامن حل کی ضرورت پر بھی زوردیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے پورا برّعظیم آگے بڑھ سکتا ہے اور اس سے پورے خطے میں امن آئے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم کی صدر حسن روحانی سے بات چیت میں ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد پر پہرے کے لیے ایک مشترکہ سریع الحرکت فورس کے قیام پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ ایرانی صدر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ بدقسمتی سے ہم نے ماضی قریب میں سرحدی علاقوں میں کچھ کشیدگی ملاحظہ کی ہے جہاں دہشت گردوں نے اپنی شرپسندانہ اور مذموم سرگرمیاں کا ارتکاب کیا ہے ‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں نے بات چیت کے دوران میں خطے میں امن وسلامتی کا عزم ظاہر کیا ہے اور ’’ ہم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کسی تیسرے ملک کو دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ اور قریبی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔صدر روحانی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات بڑھانے سے اتفاق کیا ہے اور تجارتی اشیاء کے تبادلے کے لیے ایک بارٹر کمیٹی قائم کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں