پی ٹی ایم نے جتنی آزادی لینا تھی، لے لی: ترجمان پاکستان فوج

میجر جنرل آصف غفور: ’پشتون تحفظ موومنٹ بتائے کہ کتنا پیسہ ہے ان کے پاس‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے اپنے جہازوں کا گرنا ذہن میں رکھے۔ یہ 1971 ہے نہ وہ فوج اور حالات۔ عزم کا امتحان نہ لیا جائے۔ آپ نے کہا ایٹمی اثاثے دیوالی کیلئے نہیں، تو آئیں ہم بھی تیار ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے 5 سوالات پوچھتے ہوئے قانونی دائرے میں رہ کر ان کے جواب مانگنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پشتون موومنٹ جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہو گیا۔ آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں؟ کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا۔ انھوں نے’’پی ٹی ایم‘‘ کو پیغام دیا کہ اس کی مہلت اب ختم ہو چکی۔ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اور وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نصاب بنانے کیلیے کمیٹی بنائی ہے جو مدارس کیلیے نصاب تیار کرے گی۔ مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام ہوگا، لیکن نفرت انگیز مواد نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے اور وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نےعصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نصاب بنانے کیلیے کمیٹی بنائی ہے جو مدارس کیلیے نصاب تیار کرے گی۔ مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام ہوگا لیکن نفرت انگیز مواد نہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدارس ہیں جن میں 25 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ 1947 میں مدارس کی تعداد 247 تھی جو 1980ء میں 2861 ہوگئی اور آج 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ آرمی چیف کی ہدایت ہے کہ ’’اپنا فقہ چھوڑو نہیں اور دوسرے کا فقہ چھیڑو نہیں‘‘، مدارس کے نصاب میں تبدیلی نہیں ہوگی لیکن منافرت پھیلانے والا مواد بھی نہیں ہوگا۔ جہاد افغانستان کے بعد پاکستان میں مدارس کھولے گئے اور جہاد کی ترویج کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں انقلاب آیا۔ جس کے بعد پاکستان میں فرقہ ورانہ تصادم شروع ہوا۔ نائن الیون کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوا جس کے نتیجے میں جغرافیائی معیشت پر سیاست شروع ہوئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عسکریت پسندی کی طرف لے جانے والے مدارس کی تعداد 100 سے بھی کم ہے۔ بیشتر مدارس پرامن ہیں۔ مدرسے کے ایک طالبعلم نے آرمی میں کمیشن بھی حاصل کیا ہے۔ لیکن ان مدارس کے بچوں کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہوتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم جیسی ہے چلتی رہے گی لیکن نفرت پر مبنی مواد نہیں ہوگی۔ دوسرے فرقے کے احترام پر زور دیا جائے گا۔ نصاب میں درس نظامی کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے مضامین بھی ہوں گے۔ ہر مدرسے میں چار سے 6 مضامین کے اساتذہ درکار ہوں گے۔ اس سے متعلق بل تیار ہو رہا ہے۔ پھر نصاب پر نظرثانی ہو گی۔ دہشت گردی کے مقابلے سے فارغ ہو رہے ہیں۔ اب انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے بہت سارے وسائل درکار ہوتے ہیں، پہلے بھی کس نے منع کیا تھا کہ کالعدم تنظیموں کو دوبارہ مرکزی دھارے میں نہ لایا جائے۔ کیا پرانے فیصلوں پر ہی عمل کرتے رہیں یا غلطی کی اصلاح کر لیں۔ طاقت کے استعمال کا اختیار صرف ریاست کا حق ہے۔ افواج پاکستان نے طے کرلیا ہے کہ معاشرے کو انتہا پسندی اور عسکریت پسندی سے پاک کرنا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم والے کدھر تھے جب ان کے گلے کٹ رہے تھے اور فٹ بال کھیلی جا رہی تھی۔ جب حالات ٹھیک ہوگئے تو تحفظ کی بات آ گئی۔ سیکیورٹی اداروں کے ان سے کچھ سوال ہیں: آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آ رہا ہے؟ 22 مارچ 2018 کو افغان ایجنسی این ڈی ایس نے انہیں کتنے پیسے دیے اور وہ کہاں ہیں؟ اسلام آباد دھرنے کے لیے کتنے پیسے ملے اور کہاں استعمال کیے؟ قندھار میں بھارتی قونصل خانے میں منظور پشتین کا کون سا رشتے دار گیا اور کتنے پیسے لیے؟ حوالہ ہنڈی سے دبئی سے کتنا پیسہ آرہا ہے؟ افغانستان نے کیوں منع کیا کہ طاہر داوڑ کی میت پاکستان کو نہیں دینی؟ پی ٹی ایم کے خلاف کوئی اعلان جنگ نہیں، کچھ سوالات پوچھے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم والے ہر پاکستان مخالف شخص سے کیوں ملتے ہیں اور فوجی کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے، اس علاقے میں جو فوج کی سپورٹ میں بولے وہ ماراجاتاہے، فوج سے کیا بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں، اگر آرمی چیف نے پہلے بات نہ کی ہوتی کہ ان سے پیار سے ڈیل کرنا ہے ورنہ ڈیل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، پی ٹی ایم کو دی گئی مہلت اب ختم ہوگئی، انہوں نے جتنی آزادی لینی تھی لے لی، لیکن ان کے خلاف غیر قانونی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا، جو بھی ہوگا قانونی طریقے سے ہوگا، جن لوگوں آپ ورغلارہے ہیں ان پرقابوپانا مشکل کام نہیں۔

جنرل آصف غفور نے اس موقع پر پشتو میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم پختونوں سے امید رکھتے ہیں آپ ملک دشمن قوتوں کا راستہ روکیں گے اور ان کی باتوں میں نہیں آئینگے، کچھ لوگ کسی کے ورغلانے پر آپ کو پاکستان اور اداروں کیخلاف اُکسانا چاہتے ہیں، خدانخواستہ پاکستان کو کوئی نقصان ہوگا تو یہ ہم سب کا نقصان ہو گا۔

نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سندھ پولیس کے سابق افسر راؤ انوار کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم کو ایک سیاسی جماعت سپورٹ کر رہی ہے، بچہ تو راؤ انوار اسی پارٹی کا تھا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمارا دل نہیں ہوتا کہ کوئی آدمی لاپتہ ہو، لیکن جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں، پی ٹی ایم پر میڈیا پر بحث نہیں کرائیں گے، ٹی وی چینلز ایک دن مجھے دے دیں، میں موضوع دوں گا اس پر ماہرین کو بلائیں، عدالتی اور پولیس اصلاحات پر بات کریں، شام 7 سے 12 بجے تک ٹاک شور میں صرف مسائل پر بات ہوتی ہے، آپ حل بتائیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا، ہمارا حوصلہ نہ آزمائیں، وقت آیا تو پاک فوج عوام کی مدد سے بھرپور دفاع کرے گی اور تاریخ دہرائے گی، یہ 1971 نہیں، نہ وہ فوج ہے اور نہ وہ حالات ہیں، اگر موجودہ پاکستانی میڈیا 1971 میں ہوتا تو بھارت کی سازشیں بے نقاب کرتا اور آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا، بھارت کے لیے یہی پیغام ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو پہلے نوشہرہ اسٹرائیک اور بھارتی جہازوں کے گرنے کا حساب ذہن میں رکھے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 27 فروری کو گزرے 2 ماہ ہوگئے لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے، ہم ان کا جواب دے سکتے ہیں لیکن ہم ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں، پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے گرائے جس کا ملبہ پوری دنیا نے دیکھا، بھارتی فضائیہ نے اپنا ہی ہیلی کاپٹر مار گرایا اور بلیک باکس چھپا لیا، حالات بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں بھارتی طیارے گرانے والے پاک فضائیہ کے پائلٹس کو اعزاز سے نوازیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں