لاڑکانہ میں ’مسیحا‘ موت بانٹے لگا، ایڈز پھیلانے کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار

ایڈز سے متاثرہ علاقوں میں کراچی پہلے، لاڑکانہ دوسرے اور حیدرآباد تیسرے نمبر پر ہے: سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے حلقہ انتخاب لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایڈز پھیلانے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا جس کے خود ایڈز سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رتو ڈیرو میں بچوں سمیت 42 افراد میں ایڈز وائرس کے پھیلاؤ میں ایک ماہر اطفال کے ملوث ہونے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر مظفر گھانگرو کو گرفتار کرلیا۔

رپورٹس کے مطابق لاڑکانہ میں درجنوں بچوں میں ایڈز پھیلنے کی خبر پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اب تک 42 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہو گئی ہے جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ ایڈز سے متاثرہ بچوں میں زیادہ تعداد ان کی تھی جنہیں معمول کی بیماری کے علاج کے لیے ایک نجی کلینک میں لے جایا گیا تھا۔ اس کلینک کو ماہر اطفال ڈاکٹر مظفر گھانگرو چلا رہا تھا۔

ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ نے شک کی بنیاد پر ڈاکٹر مظفر کا ایچ آئی وی ایڈز ٹیسٹ کروایا تو اس میں ایڈز کی تصدیق ہو گئی۔ ٹیسٹ مثبت آنے پر ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر عبدالسمیع کی مدعیت میں مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف رتو ڈیرو تھانہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں دفعہ 324 ارادہ قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق کا کہنا ہےکہ سرکاری ڈاکٹر مظفر گھانگرو کی غفلت کی وجہ سے ایڈز پھیلا اور اسی ڈاکٹر کے مریضوں میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی پازیٹو پایا گیا۔ ڈی سی لاڑکانہ کے مطابق ڈاکٹر مظفر کا ذہنی توازن درست نہیں لگتا اور بظاہر اس نے جان بوجھ کر متاثرہ سرنج کے ذریعے بچوں میں ایڈز پھیلایا ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر مظفر گھانگھرو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میں خود ایچ آئی وی سے متاثر ہوں، اگر مجھے پتہ ہوتا تو بچوں کا علاج نہ کرتا، میں ڈاکٹر ہوں مجھ میں ایڈز کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں اگر پہلے پتہ چلتا تو اپنا علاج کرواتا، ہیلتھ کیئر کمیشن اپنے آپ کو بچانے کے لیے مجھ پر جھوٹے کیس بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے حلقہ انتخاب میں ایڈز کا موذی مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک ماہ میں 15 بچوں کے سیمپل ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کے لئے بھیجے گئے ہیں، جن بچوں میں ایڈز کا وائرس مثبت آیا ہے ان کی عمریں 8 ماہ سے 8 سال تک کی ہیں۔

درایں اثناء سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے صوبہ میں ایچ آئی ای وائرس اور ایڈز سے متعلق مریضوں کے اعداد وشمار جاری کر دیئے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں 16115 افراد ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔ کراچی میں ایچ آئی وی وائرس سے 11282 افراد متاثر ہوئے اور لاڑکانہ میں 2016 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 78 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 11282 افراد ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہیں۔

لاڑکانہ میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد پانچ ہے جبکہ 2016 مریضوں میں ایچ آئی وی وائرس پایا گیا ہے۔ صوبہ میں ایڈز سے متاثرہ 72 فیصد مریض کراچی میں پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ دوسرے اور حیدرآباد تیسرے نمبر پر ہے۔ حیدرآباد میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 582 ہے جبکہ ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہے۔ سکھر میں ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 157 ہے جبکہ سکھر میں ایڈز سے متاثرہ کوئی مریض نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں