کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر عالمی دہشت گرد قرار

نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کا شکار داعش اورالقاعدہ ایسے عالمی دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ نے پاکستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے اور ان نام سلامتی کونسل کی پابندیاں عاید کرنے کے اختیار کی حامل کمیٹی نے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سلامتی کونسل کی کمیٹی نے اپنی منظور کردہ قراردادوں 1267 (1999ء) ، 1989 ( 2011ء) اور 2253( 2015ء) کے تحت مسعود اظہر کا نام داعش اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔یہ قرار دادیں داعش ، القاعدہ اور ان سے وابستہ افراد ، گروپوں اور اداروں پر پابندیوں سے متعلق ہیں‘‘۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ مسعود اظہر کو قبل ازیں عالمی دہشت گرد قرار دینے کے لیے پیش کردہ تجاویز ٹیکنیکل معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔ان کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا اور بھارت کے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچانا تھا ،اس لیے انھیں پاکستان نے مسترد کردیا تھا ۔نیز ان تجاویز کا ایک سیاسی ایجنڈا بھی تھا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’مسعود اظہر کے خلاف حالیہ تجاویز کا محرک پلوامہ حملہ تھا اور ان کا مقصد بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری جائز تحریکِ حرّیت کو نقصان پہنچانا تھا لیکن ہم اس تحریک کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے‘‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ’’بھارت اس کو (سلامتی کونسل کی کمیٹی کے فیصلے کو) اپنی فتح کے طور پر پیش کررہا ہے اور اس کو اپنے بیانیے کی تصدیق قرار دے رہا ہے لیکن یہ تمام دعوے غلط ہیں‘‘۔

بھارت 2016ء سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کے لیے کوشاں تھا اور 14 فروری کو ریاست جموں وکشمیر کے شہر پلوامہ کے نزدیک سنٹرل ریزور پولیس فورس کے ایک قافلے پر خودکش بم حملے کے بعد اس کی تحریک میں تیزی آئی تھی۔یہ حملہ مقبوضہ کشمیر ہی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے کیا تھا لیکن اس کی ذمے داری جیش محمد نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں بھارتی پولیس کے پینتالیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور بھارت نے پاکستان سے جیش محمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان میں سکیورٹی اداروں نے کالعدم جنگجو گروپوں اور تنظیموں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کریک ڈاؤن کیا تھا اور مسعود اظہر کے بھائی عبدالرؤف اور بیٹے حماد اظہر سمیت چوالیس مشتبہ افراد کو تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا تھا۔ ان کے نام بھارت کی جانب سے پاکستان کو پلوامہ حملے سے متعلق فراہم کردہ دستاویز میں شامل تھے۔

یاد رہے کہ بھارت کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نے 19 دسمبر 2016ء کو کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد اور اس کے سربراہ مسعود اظہر کو اسی سال جنوری میں پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر تباہ کن حملے میں ماخوذ قرار دیا تھا ۔بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ،این آئی اے) نے الزام عاید کیا تھا کہ 2 جنوری کو پٹھان کوٹ کے ائیربیس پر دھاوا بولنے والے تمام چاروں مسلح افراد پاکستانی شہری تھے اور مسعود اظہر اس حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

یہ چاروں حملہ آور پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر دھاوا بولنے کے بعد اٹھارہ گھنٹے تک بھارتی سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اس حملے میں سات بھارتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے تھے۔اس حملے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور دونوں ملکوں کی فوجوں میں آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول پر آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان نے مولانا مسعود اظہر کو پٹھان کوٹ کے اس واقعے کے بعد حفاظتی تحویل میں لے رکھا ہے۔پاکستانی حکام نے بھی ان کے خلاف اس واقعے کی تحقیقات کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں مسعود اظہر یا جیش محمد کے اس حملے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ملا تھا اور نہ انھیں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت بھارت کی جانب فراہم کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں