.

شہبازشریف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار، رانا تنویرنئے چیئرمین ہوں گے

خواجہ آصف قومی اسمبلی میں پی ایم ایل این کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ ہوں گے،شہباز شریف بدستور قائد حزبِ اختلاف رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف قومی اسمبلی کی سرکاری حسابات کمیٹی ( پبلک اکاؤنٹس کمیٹی) کے چئیرمین کے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں اور پی ایم ایل این کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے ان کی جگہ رانا تنویر حسین کو پی اے سی کی سربراہی کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایم ایل این کے میڈیا سیل کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ’’شہباز شریف پی اے سی کا چئیرمین بننے کے کبھی خواہاں نہیں رہے تھے اور انھوں نے مشترکہ حزب اختلاف اور پارلیمانی مشاورتی گروپ کے اصرار پر یہ عہدہ قبول کیا تھا‘‘۔تاہم ان کی اس طرح اچانک دستبرداری کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

اب مسلم لیگ نواز طے شدہ قواعد وضوابط کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر کو اس تبدیلی سے متعلق ایک خط لکھے گی ۔اسپیکر کا دفتر پھر پی اے سی کے نئے چئیرمین کے تقرر کا نوٹی فکیشن جاری کردے گا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پی ایم ایل این نے پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی اور حزبِ اختلاف کی دوسری جماعتوں کو رانا تنویر حسین کو پی اے سی کا نیا سربراہ بنانے کے لیے اعتماد میں لے لیا ہے‘‘۔

انھوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی میں اب سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف پی ایم ایل این کے پارلیمانی لیڈر ہوں گے اور انھیں میاں شہباز شریف کی خواہش پر یہ ذمے داری سونپی گئی ہے۔جماعت کے میڈیا سیل کے مطابق رانا تنویر حسین اور خواجہ محمد آصف کو میاں نواز شریف نے ان نئی ذمے داریوں کے لیے نامزد کیا تھا اور پارلیمانی پارٹی نے ان کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

تاہم جماعت کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے واضح کیا ہے کہ میاں شہباز شریف ہی قومی اسمبلی میں بدستور قائد ِ حزب اختلاف رہیں گے۔انھوں نے اس حوالے سے ان میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد اور افواہیں قرار دے کر مسترد کردیا ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ اس عہدے سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مشترکہ حزبِ اختلاف ان کی قیادت میں حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کرتی رہے گی۔

خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میاں شہباز شریف طبی معائنے اور خاندانی امور کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہیں ۔البتہ وہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شرکت کریں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پی ایم ایل این کے صدر اب لندن ہی میں مقیم رہنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکمراں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میا ں شہباز شریف کو سرکاری حسابات کمیٹی کی چئیرمین شپ دینے میں متردد رہی تھی اور اس نے روایت کے برعکس پانچ ماہ تک ان کے انتخاب میں روڑے اٹکائے رکھے تھے۔

پی ایم ایل این نے حکمراں جماعت کے مطالبے پر اپنے کسی اور رکن اسمبلی کو پی اے سی کا سربراہ نامزد کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کا یہ مؤقف تھا کہ پارلیمانی روایت کے مطابق ایوانِ زیریں میں قائد ِ حزب اختلاف ہی کو اس اہم کمیٹی کا چئیرمین ہونا چاہیے۔ چناں چہ اس کے بعد ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں یہ اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا سربراہ بنانے کی راہ میں اب حائل نہیں ہوں گے۔اس کے بعد اسپیکر نے ان کے تقرر کا اعلامیہ جاری کردیا تھا۔