.

سعودی عرب میں سوموار کو یکم رمضان ، پاکستان میں چاند نظر نہیں آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اتوار کی شام رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا اور سوموار چھے مئی کو پہلا روز ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند نظر نہیں آیا ،اس لیے یکم رمضان منگل کو ہوگی ۔

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق سعودی عرب کے ایک چھوٹے گاؤں حوطۃ سدير میں فلکیاتی مبصرین کی ایک ٹیم نے چاند دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔اس گاؤں میں جامعہ الجمعہ میں سعودی عرب کی رصدگاہ واقع ہے۔ یہ گاؤں دارالحکومت الریاض سے 140 کلومیٹر شمال میں صوبہ الریاض ، سدیر اور قصیم کے سنگم پر واقع ہے۔

اس رصدگاہ کے اعلان کے بعد سعودی عرب کے شاہی دیوان نے بھی رمضان المبارک کے آغاز کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

پاکستان میں رؤیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کی شام ملک بھر میں کہیں سے بھی رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی ٹھوس شہادت نہیں ملی ہے۔اس لیے سوموار کو 30 شعبان ہو گی اور منگل سات مئی کو پہلا روزہ ہوگا۔

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’’ رمضان کی رؤیت سے متعلق یہ ان کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ماہرین اور کمیٹی کے تمام ارکان کی آراء کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ ارکان اپنے اپنے فرقے کی کمیٹی میں نمایندگی کرتے ہیں اور وہ ہرگز بھی ان کے زیر اثر نہیں ہیں‘‘۔ بعد میں وزارت برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے ان کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

توقع ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ قطر ،متحدہ عرب امارات ،انڈونیشیا ،سنگاپور ،لبنان ،شام ،کویت ،اردن ، افغانستان اور فلسطینی علاقوں میں سوموار ہی کو روز پہلا روزہ ہوگا۔ یورپی ممالک میں مقیم مسلمان بالعموم سعودی عرب کے ساتھ ہی ماہ صیام کا آغاز کرتے ہیں۔اس مرتبہ بیشتر مسلم ممالک میں گرم موسم میں ماہ رمضان آرہا ہے۔ البتہ مغربی ممالک میں دن کے وقت موسم معتدل رہے گا۔

رمضان اور دوسرے قمری مہینوں کے آغاز کا انحصار چاند کی رؤیت پر ہوتا ہے۔اس ماہ کے دوران میں مسلمان سحری سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔اس دوران میں وہ کچھ کھاتے، پیتے نہیں اور بعض حلال امور سے بھی اجتناب کرتے ہیں۔

روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے دوسرا رکن ہے۔ مسلمان اس ماہ میں اللہ کا قُرب اور خوشنودی حاصل کرنے اور تزکیہ نفس کے لیے بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں۔رات کو تراویح کی اضافی نماز کے علاوہ نوافل ادا کرتے اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔وہ فضول گفتگو،عیب جوئی ،غیبت ،لڑائی جھگڑے اور مجادلے سے گریز کرتے ہیں اور معاشرے کے غریب اور معاشی طور پر پسماندہ افراد کی مالی امداد میں پیش پیش ہوتے ہیں۔انھیں زکوٰۃ اور صدقات دیتے ہیں اور ان کی روزہ کشائی کے لیے افطاریوں کا اہتمام کرتے ہیں۔