.

عالمی ساہوکارآئی ایم ایف کے کارندے ڈاکٹر رضا باقر بنک دولت پاکستان کے گورنر ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے عالمی ساہو کار ادارے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) کے کارندے ڈاکٹر رضا باقر کو تین سال کے لیے بنک دولت پاکستان کا گورنر مقرر کردیا ہے۔

فنانس ڈویژن نے ہفتے کے روز ان کے تقرر کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔رضا باقر سنہ 2000ء سے آئی ایم ایف سے وابستہ ہیں اور ایک ماہر معیشت کی حیثیت سے اس ادارے میں مختلف خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھیں طارق باجوہ کی جگہ اسٹیٹ بنک کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ انھیں وزیراعظم عمران خان کے زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جمعہ کو اچانک چلتا کیا تھا ۔ان کے ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے چئیرمین کو بھی فارغ خطی دے دی تھی۔

حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق طارق باجوہ نے 3 مئی کو اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا اور وفاقی حکومت نے کابینہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں ا س کو فوری طور پر منظور کر لیا تھا۔

صدر پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تقرر نامے کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے تین سال کے لیے بنک دولت پاکستان کے گورنر رہیں گے۔تاہم ان کے تقرر کی شرائط کا اعلان صدر کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر ا س وقت عرب جمہوریہ مصر میں ادارے کے سینیر ریزیڈنٹ نمایندے کے طور پر کام کررہے ہیں۔اس سے پہلے وہ یورپی ملک رومانیہ میں آئی ایم ایف کے مشن کے سربراہ رہے تھے۔ان کا اس عہدے پر تقرر جنوری 2016ء میں کیا گیا تھا۔ وہ 2000ء سے آئی ایم ایف کے قرضہ پالیسی ڈویژن کے سربراہ چلے آرہے ہیں۔

انھوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوایشن کی تھی اور کیلی فورنیا یونیورسٹی برکلے سے اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ عالمی بنک ، میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور سوئٹزر لینڈ کے یونین بنک میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔