’دلہن سمگلنگ‘ کی خبروں نے پاک-چین حکام کے کان کھڑے کر دیے

اسلام آباد آمد پر ویزا دینے کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی لڑکیوں سے شادی رچا کر انہیں جنسی غلام بنانے کی خبروں نے ملک بھر کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ چینی شہریوں کے لیے نہ صرف ویزا پالیسی پر نظرثانی بلکہ ان کی سخت نگرانی کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ادارہ’’ایف آئی اے‘‘نے حالیہ ہفتوں میں متعدد چینی شہریوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کو گرفتار کیا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادی کر کے انہیں چین لے جا کر ’جسم فروشی پر مجبور‘ کرتے تھے جب کہ ان لڑکیوں کو ان کے ’جسم کے اعضاء نکالنے‘ کی بھی دھمکی دی جاتی تھی۔

تاہم اسلام آباد چینی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ترجمان کے نے ایک بیان میں ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کے تمام مقدمات کی تفتیش چینی ادارے کر رہے ہیں اور تحقیقات میں زبردستی جسم فروشی اور اعضا کی فروخت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ’انٹرنیٹ اور میڈیا پر اس سلسلے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے۔‘

ذرائع کے مطابق گذشتہ سال 142 چینی باشندوں نے اپنی پاکستانی بیگمات کے لیے چینی سفارتخانے سے ویزے لیے تاہم اس سال چند ماہ میں ہی 140 کے قریب درخواستیں موصول ہونے پر چینی سفارتخانہ محتاط ہو گیا اور صرف پچاس پاکستانی دلہنوں کو ویزے جاری کیے گئے اور باقی نوے کے ویزے روک دیے گئے۔

انسانی اسمگلنگ کی اس خبر سے ملک کے کئی حلقوں میں اشتعال پایا جاتا ہے اور ان کے خیال میں چینی شہریوں کو ’آزادی دینے‘ کی وجہ سے ملک کو یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔ کئی حلقے حکومت کی ویزا پالیسی پر خصوصاﹰ سخت ناراض ہیں اور وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ان واقعات کے بعد فوری طور پر اپنی ویزا پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں