.

پاکستانی کرنسی کی قدر میں ریکارڈ کمی ، ڈالر 148 روپے کا ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی کرنسی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے اور جمعرات کے روز ڈالر کا انٹربنک لین دین 148 روپے میں ہوا ہے۔ جب کاروبار بند ہوا تو اس وقت ایک ڈالر کی قیمت 147روپے 10 پیسے تھی ۔

بدھ کو ڈالر کی قدر 141روپے پانچ پیسے تھی لیکن آج اس میں ساڑھے چھے روپے کا یک دم اضافہ ہوا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں یہ نمایاں کمی وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک کمیٹی کے قیام کے اعلان کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔یہ کمیٹی پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور ملک سے سرمائے کے بیرون ملک فرار کو روکنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے بعد روپے کی قدر میں مزید15 سے20 فی صد تک کمی کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سمجھوتے کے بعد مارکیٹ میں غیریقینی کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر شرح تبادلہ کو آزاد کرنے کی خبر پر ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو انٹربینک ڈالرکا لین دین 141 روپے 39 پیسے پر بند ہوا تھا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر146روپے کا ہوگیا تھا۔ تاہم وزیراعظم کے نوٹس کے بعد2گھنٹے میں ہی ڈالر اوپن مارکیٹ میں144روپے کی سطح پر واپس آگیا تھا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ بیل آؤٹ پیکج طے پانے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ مارکیٹ کو از خود شرح تبادلہ کا تعیّن کرنا چاہیے لیکن مالیاتی مارکیٹ میں ا س بیان کا الٹا اثر ہوا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں تیزی کے حوالے سے فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے صدرملک بوستان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ روپے کی قدر میں15سے 20 فی صد تک کمی کی افواہیں ہی ہیں۔ ملک بوستان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈالرکو بے لگام نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوتاہے اور حکومت کی ساکھ بھی خراب ہوتی ہے۔

پاکستان کی ایکسچینج کمپنیوں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹری ظفر پاشا کا کہنا تھا کہ ’’آئی ایم ایف سے سمجھوتے کے نتیجے میں آیندہ دنوں میں روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہونے کا امکان ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی وبیشی کا پیشگی علم رکھنے والے افراد نے ڈالر کی قدر میں اس طرح اضافے سے مختصر وقت میں بھاری رقوم بنا لی ہیں۔انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو گا ، ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوگی اور رقوم کی منتقلی کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔

ملک کے کرنسی ڈیلروں اور ماہرین معیشت نے آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی شرائط کو خفیہ رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے عالمی مالیاتی اداروں سے معاشی اصلاحات کے ضمن میں کیے گئے وعدوں کے پیش نظر روپے کی قدر میں یہ نمایاں کمی ہوئی ہے اور ڈالر کی قدر بڑھتی چلی جارہی ہے۔