.

تبدیلی سرکار کی مخالفت میں ماضی کی حریف جماعتیں ایک ہو گئیں

حزب اختلاف کی جماعتوں کا عید الفطر کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت مخالف دس سیاسی دینی قوم پرست جماعتیں حکومت کے خلاف متحد ہو گئیں۔ حکومت کو چلتا کریں گے اور اصل جمہوری حکومت آئے گی۔ حکومت ناکام ہوگئی ہے۔ کل جماعتی کانفرنس’’اے پی سی‘‘ ایک نئے مضبوط اپوزیشن اتحاد کو جنم دے گی۔ حکومت گری ہوئی ہے، اس کو گرانے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن کے فیصلہ کر لیا تو حکومت ایک ماہ میں بھی قائم نہ رہے گی قومی صوبائی سینٹ میں 60 فیصد ارکان اپوزیشن سے ہیں۔ اپوزیشن مستعفی ہو گئی تو کچھ نہ بچے گا۔

انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ حکمت عملی طے کرنے کے لیے عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس ہو گی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے اور ایمنسٹی سکیم کو مسترد کر دیا گیا۔ مورچے میں بیٹھ کر بوری پر نہیں اس کے پیچھے شخص پر وار کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ میں زبان بندی ہے پارلیمنٹ میں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے اب بات سڑکوں پر ہو گی۔ مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو،مریم نواز، مولانا فضل الرحمن، شاہد خاقان عباسی، حاصل بزنجو، میاں افتخارحسین، محسن داوڑ ودیگر نے اتوار کو مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

افطار ڈنر کے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ساری اپوزیشن کو مدعو کیا گیا تھا۔ ہر سیاسی جماعت کا اپنا منشور نظریہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے مسائل اتنے ہیں کوئی جماعت تنہاء ان کا حل نہیں نکال سکتی۔ تمام جماعتوں کا مشکور ہوں ہم نے پاکستان کی سیاسی معاشی صورتحال جمہوریت انسانی حقوق کی پوزیشن کا خوشگوار ماحول میں بات کی۔متحدہ اپوزیشن کا مشاورتی اجلاس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مسائل عوامی دکھ درد کی بات کر کے بہترین پالیسی بن سکتے ہیں۔ ساری جماعتیں کی طرف سے عید کے بعد احتجاج ہوگا پارلیمنٹ میں احتجاج ہوگا ۔مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آئندہ کل جماعتی کانفرنس ہوگی ۔حکومت مخالف حکمت عملی طے کی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تمام مقتدر سیاسی جماعتوں کے قائدین اکٹھے ہوئے۔ افطار پارٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ درپیش حالات چیلنجز ہیں اقتصادی طور پر ملکر بیٹھ رہا ہے ۔عالمی دنیا میں کمزور ترین ملک کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں۔ نااہل لوگوں کے اقتدار میں آنے سے ایسا ہوا۔ ملک ایسے گہرے سمندر میں جا گرا ہے اس کو سنبھالنا قومی قیادت کا فریضہ ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں میدان میں آنے کے لیے پر عزم ہیں۔ مشترکہ حکمت عملی اور مشترکہ کاز کے تعین کے لیے اے پی سی ہوگی۔ عید الفطر کے فوری بعد اے پی سی ہو گی جس میں طویل مشاورت ہوگی۔ مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ آج کا مشاورتی اجلاس مفید اور معنی خیز ہے۔ آئندہ آنے والے مستقبل کے خاکے کا تعین کرلیا ہے۔ ایک پلیٹ فارم پر ایک کاز کے تحت میدان میں ملکر آئیں گے غرقاب ہوتی کشتی کو بچائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس اجلاس میں اتفاق ہوا حکومت ملک چلانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکی ہے۔ جولائی 2018ء کے متنازعہ انتخابات کا قوم خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ خود مختاری دائو پر لگ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد احتساب اپوزیشن کو دبانے انتقام لینے کی کوشش کی ہے۔ اس احتساب سے کوئی غرض نہیں ہے، اس کو بھگت لیں گے۔ عوامی مسائل کی بات کرنی ہے عوام امید سے محروم ہو چکے ہیں۔ پارلیمنٹ میں زبان بندی ہے پارلیمان میں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے اب بات سڑکوں پر ہو گی۔مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ مشاورتی اجلاس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ پیپلز پارٹی کی ساری قیادت موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت موجود ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ ہم سب شریک ہیں اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ عید کے بعد باقاعدہ طور پر اپوزیشن کی وسیع اے پی سی ہوگی۔ یہ نہیں ہو گا کہ اے پی سی میں بیٹھیں گے اوراٹھ کر چلے جائیں گے۔ اے پی سی ایک نئے مضبوط اپوزیشن اتحاد کو جنم دے گی حکومت گری ہوئی ہے اس کو گرانے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن کے فیصلہ کر لیا تو حکومت ایک ماہ میں بھی قائم نہ رہے گی قومی صوبائی سینٹ میں 60 فیصد ارکان اپوزیشن سے ہیں۔اپوزیشن مستعفی ہو گی تو کچھ نہ بچے گا نیا بیانیہ جاری کریں گے۔

آفتاب احمد شیر پائو نے کہا کہ ساری اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ ملک و عوام پر جو گزر رہی ہے نا قابل بیان ہے۔ اپوزیشن خاموش تماشائی بنکر نہیں بیٹھ سکتی ہے۔ ساری اپوزیشن جماعتیں میں روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ملک کوبحران سے نکالا جائے۔ عوام کو بھی روشنی کی کرن نظر آئے گی اور صحیح معنوں میں جمہوری اقدارجنم لیں گی۔

افتخار حسین نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ نے ایسا کھیل کھیلا کہ ایک شخص کی خاطر تمام جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا گیا ہے۔مہنگائی آسمان سے بات کر رہی ہے۔ عمران خان نے جھوٹ بولنے کی انتہاء کر دی ہے۔ ملک کی بقاء کو دائو پر لگایا گیا ہے۔ مورچے میں بیٹھ کر بوری پر نہیں اس کے پیچھے شخص پر وار کرنا ہو گا۔ .کل جماعتی کانفرنس میں تمام جماعتیں سوچ سمجھ کر ایجنڈا لے کر آئیں گی. ملک بقاء کی خاطر حکومت سے ٹکر لینی ہے۔مصیبت سے ایسے ٹکرائیں گے جیسے پہاڑ سے ٹکرایا جاتا ہے. ملک اور پارلیمنٹ کو خطرہ ہے عوامی قوت سے زیادہ کوئی مضبوط نہیں ہو سکتا۔ .حکومت کو چلتا کریں گے اور اصل جمہوری حکومت آئے گی۔

سینیٹر جہانزیب جمال دینی بھی اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے فیصلوں کی تائید کی۔ ہر ادارے کو اپنی حد میں رہنا ہوگا ہم نے اس پر عملدرآمد کروانا ہو گا۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنانے کی مشترکہ کوشش کی جائے گی. پختونخوا ملی پارٹی کے نمائندے نے بھی فیصلوں کی حمایت کی۔ پی ٹی ایم کے رہنماء محسن داوڑ نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے ریاست کے ساتھ آئین کے ذریعے رشتہ جڑا ہوا ہے. آئین کے تحت معاملات کو چلانا ہے. آج پاکستان کے آئین کے ساتھ جو حشر ہو رہا ہے بطور ریاست پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا. آئین پر من وعن عملدرآمد کرنا ہوگا۔ سب متفق ہیں حقیقی جمہوری پاکستان کے لیے ملکر جدوجد کریں گے. خارجہ امور، داخلہ پالیسی پارلیمان بنائے گی۔ تمام ادارے پرغمال ہیں مفلوج شدہ جمہوریت سے گزر رہے ہیں تمام اداروں کو آزاد کرنے کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں اغواء شدہ نظام کو عوام کے ہاتھوں میں دیں گے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پہلی ملاقات نہیں ہے۔ بلاول میری والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ہمارے گھر آئے۔ بلاول نے جیل میں بھی نوازشریف سے ملاقات کی تھی مجھے ایسا اچھا لگا۔ نواز شریف کی طبعیت ناساز تھی اب بھی ہے۔ بلاول کی دعوت اچھی لگی، شرکت کی۔ میثاق جمہوریت کی وجہ سے دو جماعتوں کی اپنی اپنی حکومت نے مدت پوری کی۔ ایک جمہوری حکومت نے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ ووٹ کو عزت دی گئی۔ میثاق جمہوریت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کی اقدار اور ماں باپ کی تربیت بھی اچھی ہے کہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں لے گئے۔

قبل ازیں حکومت مخالف جماعتوں کا اتوار کو زرداری ہائوس اسلام آباد میں اجلاس ہوا۔ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہوئے۔ متحدہ حزب اختلاف نے سابق وزیراعظم اور کوٹ لکھپت جیل میں قید محمد نوازشریف سے اظہار یکجہتی کیا۔ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں میں مہنگائی، بیروزگاری، معیشت کے حوالے سے درپیش بحران کے خلاف شدید احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کی میزبان پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف زرداری تھے۔

مشاورتی اجلاس میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف، عوامی نینشل پارٹی کے رہنما، ایمل ولی خان، زاہد خان، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپائو، نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاصل بزنجو، بلوچستان نینشل پارٹی (مینگل) کے رہنما جہانزیب جمالدینی، سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمان، نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر اور دیگر شریک ہوئے۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں شریک ہونا تھا تاہم ان کی کوئٹہ سے اسلام آباد کی پرواز چھوٹ گئی تھی جس کے باعث محمود خان اچکزئی کی جگہ سینیٹر عثمان افطار ڈنر میں شریک ہوئے۔