.

کراچی کے ساحلی علاقے کیکڑا ون میں تیل اور گیس کی تلاش کا منصوبہ ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کراچی کے ساحلی علاقے کیکڑا ون میں تیل اور گیس کی تلاش ترک کر کے کھدائی کا کام بند کر د یا گیا ہے جس کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قوم کو چند روز میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ملنے سے متعلق خوشخبری اور ملک کی اقتصادی مشکلات دور ہونے کی امید دم توڑ گئیں۔

عمران خان کے اس بیان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پریشان لوگوں کو یہ ڈھارس بندھائی تھی کہ ان کے دن پھرنے والے ہیں اور جلد ہی ملک خوشحال ہو جائے گا۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر لوگ تیل اور گیس کے ذخائر کے تخمینے لگاتے رہے اور یہ دعوی بھی کہا گیا کہ اس کا شمار دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔

پڑولیم ڈویژن کے عہدے داروں نے ہفتے کے روز میڈیا کو بتایا کہ ساڑھے پانچ ہزار میٹر کی ڈرلنگ کے بعد تیل اور گیس کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے کیونکہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

دوسری جانب عمران خان نے پشاور میں اپنے دورے کے موقع پر ایک بار پھر کراچی کے ساحلی علاقے میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر ملنے کی توقع کا اظہار کیا۔ جب کہ اس سے کئی گھنٹے پہلے ہی پڑولیم ڈویژن کے عہدے دار ڈرلنگ کا کام روک دینے کا اعلان کر چکے تھے۔

کیکڑا ون سائٹ پر ایکسان موبل،ای این آئی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی مل کر تیل اور گیس کی تلاش کا کام کر رہے تھے۔اس ساحلی بلاک پر ڈرلنگ کا کام تقریباً چار مہینے پہلے شروع ہوا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کراچی کے قریب گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران تیل وگیس کے ذخائر نہ ملنے کی تصدیق کر دی۔

معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں ڈرلنگ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر نہیں مل سکے ہیں، کراچی سے 230 کلومیٹر دور واقع کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ذخائر نہ ملنے کے بعد اب ڈرلنگ کا کام ترک کردیا گیا ہے.

پانچ ماہ جاری رہنے والے ٹیسٹنگ کے نتائج سے ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز کے آفس کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔عہدے دار نے بتایا کہ اس منصوبے پر اب تک 15 ارب روپے کے لگ بھگ اخراجات آ چکے ہیں۔ پاکستان میں ساحلی علاقوں کے قریب تیل اور گیس کی تلاش کی یہ 17 ویں مہم تھی۔ اب تک کی ان مہمات کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔