.

مکہ اور دیگر سعودی شہروں پر میزائل حملے ناقابل قبول ہیں: پاکستان علماء کونسل

’’مسلم امت کسی ملک گروہ یا جماعت کو ارض حرمین شریفین کے امن وسلامتی سے نہیں کھیلنے دے گی’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’مکہ المکرمہ اور سعودی عرب کے دیگر شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے ناقابل قبول ہیں۔ امت مسلمہ اپنے مقدسات کے تحفظ اور دفاع کے لئے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘ کے مکہ المکرمہ میں ہونے والے سمٹ دہشت گرد گروہوں، جماعتوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف واضح پالیسی کا اعلان کریں۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تنازعات کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ حوثی باغیوں اور دیگر دہشت گرد گروہوں اور جماعتوں کی معاونت ختم ہو۔ امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد سے ہی مسئلہ کشمیر و فلسطین حل ہوں گے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار منگل کے روز اسلام آباد میں پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ کانفرنس سے خطاب کرنے والے مقررین نے کیا۔ کانفرنس میں ملک کی مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے قائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد والمدارس پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔

کانفرنس سے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد، پیر نقیب الرحمن، پروفیسر ذاکر الرحمن، علامہ سجاد حسین شیرازی، مولانا ابو بکر صابری، علامہ سید محمد ہادی الحسینی، مولانا ضیاء الحق، صدر نشین بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا نعمان حاشر، علامہ فاروق سعیدی، مولانا طاہر عقیل اعوان، قاری ممتاز ربانی، مولانا اسد اللہ فاروق، علامہ طاہر الحسن، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا الیاس مسلم، مولانا قاسم قاسمی، علامہ زبیر زاہد نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ملک کی مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے قائدین نے سعودی عرب اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاء پسند اور دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف مسلم ممالک کو متفقہ حکمت عملی بنانی ہو گی۔ مکہ المکرمہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے نا قابل قبول ہیں۔ حضرت علی ہجویریؒ کے مزار، مسجد اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی سازش تھی جسے ناکام بنایا گیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ خلیج میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی امت مسلمہ کیلئے تشویش کا سبب ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے ایران سے جنگ نہ کرنے اور سعودی عرب کا مکمل دفاع کرنے کا اعلان قابل ستائش ہے۔ امت مسلمہ کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔ مسلمانوں کے مقدسات کا دفاع ہر مسلمان پر فرض ہے۔ سعودی عرب پر جارحیت کی کوششیں نا قابل قبول ہیں۔ مسلم امۃ کسی ملک گروہ یا جماعت کو ارض حرمین شریفین کے امن وسلامتی سے نہیں کھیلنے دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق، شام، یمن، لیبیا کی تباہی کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کو ہدف بنانے والے جان لیں کہ سعودی عرب اور پاکستان کا دفاع، سلامتی اور استحکام ایک ہے۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر اسلامی ممالک میں تشدد پھیلانے کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کسی کو بھی فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مکہ المکرمہ، جدہ ، طائف اور سعودی عرب کے دیگر شہروں پر حملوں نے امت مسلمہ کے دلوں کو زخمی کر دیا ہے۔

علماء کرام کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ پاکستان اور سعوی عرب کے درمیان اخوت اورعقیدت کے لازوال رشتے ہیں۔ ارض حرمین شریفین کی سلامتی، استحکام اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن ہی نہیں ہے۔ مقررین نے کہا کہ خلیج کی صورتحال کی اصلاح کے لئے پاکستان کی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے فلسطین اور کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیلی اور بھارتی مظالم کے خلاف امت مسلمہ کو باہمی اتحاد سے آواز بلند کرنی چاہیے اور فلسطین اور کشمیر پر اسرائیلی اور بھارتی تسلط ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

کانفرنس کے شرکاء کی جانب سے ایک قرارداد کے ذریعے مکہ المکرمہ پر میزائل حملے ناکام بنانے پر شاہی فوج اور سلامتی کے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ سعودی عرب کی فوج کی تربیت پاکستانی فوج نے کی ہے اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے حرمین شریفین کی سلامتی اور تحفظ کیلئے سعودی عرب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی پاکستان کا اعزاز اور فخر ہے۔

ایک الگ قرار داد میں اسلامی اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ حج اور عمرہ مسلمانوں کی مقدس عبادات ہیں۔ حج وعمرہ پر سیاست سے گریز کیا جائے۔ سعودی عرب کی طرف سے قطر کے حجاج اور زائرین کو ہر طرح کی سہولتیں دینے کا اعلان قابل تحسین ہے۔ قرار داد میں متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں تخریب کاری کی کوشش کی مذمت کی گئی اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اظہار یکجہتی کیا گیا، کانفرنس میں مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ کرنے کے فیصلہ کی بھی مکمل توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے مدارس کا مطالبہ تسلیم کر کے درست سمت قدم اٹھایا ہے۔

ایک اعلان کے مطابق پاکستان علماء کونسل اور اس کی حلیف جماعتیں 20 رمضان تا 30 رمضان عشرہ تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ منائیں گی۔ انتہاء پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جدوجہد کو مزید منظم کیا جائے گا۔ اس موقع پر ملک بھر میں اجتماعات، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور ارض حرمین شریفین کے دفاع،سلامتی اور استحکام کا عزم کیا جائے گا۔