.

پاکستان نے صوبہ مکہ کی جانب یمنی حوثیوں کے بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دفتر خارجہ نے یمن میں قانونی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے والےحوثی باغیوں کے سعودی عرب کے صوبے مکہ کی جانب بیلسٹک میزائلوں سے حملے کی مذمت کردی ہے۔

سعودی عرب نے سوموار کو حوثی شیعہ باغیوں کے نجران شہر کی جانب فائر کیے گئے دو میزائلوں کو ناکارہ بنانے کی اطلاع دی تھی۔دفتر خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں صوبہ مکہ کی جانب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی مسلح افواج کو بروقت دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ان میزائلوں کو ناکارہ بنانے پرسراہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کا اعادہ کرتا ہے اور وہ مملکت کی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں اپنی مددوحمایت کے عزم کا بھی اعادہ کرتا ہے‘‘۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یمن میں قانونی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے حوثی باغیوں سے برسرجنگ عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ ’’ سعودی عرب کی شاہی دفاعی افواج نے جدہ اور طائف ریجن کے ممنوعہ علاقوں سے گذرنے والے فضائی اہداف کا سراغ لگالیا تھا اور صورت حال کے مطابق ان سے معاملہ کیا ہے‘‘۔

دریں اثناء واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ایک ٹویٹ میں یہ اطلا ع دی ہے کہ دو میزائلوں کو صوبہ مکہ میں ناکارہ بنایا گیا ہے۔جدہ اور طائف صوبہ مکہ ہی میں واقع ہیں۔

العربیہ ٹی وی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا تھا کہ سعودی عرب کی دفاعی فورسز نے دو بیلسٹک میزائلوں کو دو مغربی شہروں جدہ اور طائف کی فضائی حدود میں ناکارہ بنایا تھا۔ان میں سے ایک کا رُخ مکہ کی جانب تھا۔

کرنل ترکی المالکی نےایک اور بیان میں یہ اطلاع دی تھی کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے سرحدی صوبے نجران میں واقع ایک شہری مقام کو بم سے لدے ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر سعودی فورسز نے اس حملے کو بھی ناکام بنا دیا تھا۔ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔ایس پی اے کے مطابق کرنل المالکی نے حوثیوں کو ’ایران کی دہشت گرد ملیشیا‘ قرار دیا تھا مگر انھوں نے اس ڈرون حملے میں کسی ہلاکت یا کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔