.

بیشکِک : ایس سی اوکا اجلاس ، پاک بھارت وزرائے خارجہ میں’ غیر رسمی مکالمہ‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرغیزستان کے دارالحکومت بیشکِک میں بدھ کو شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کی وزارتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنی بھارتی ہم منصب سشما سوراج کے ساتھ غیر رسمی بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اس مکالمے کے بعد کہا:’’ آج میری سشما جی سے ملاقات ہوئی ہے۔انھوں نے یہ شکایت کی تھی کہ ہم کبھی کبھار کڑے وقت ہی میں گفتگو کرتے ہیں۔وہ آج اپنے ساتھ مٹھائی لائی تھیں تاکہ ہم میٹھے میٹھے بول بول سکیں‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ہم نے ان پر واضح کیا ہے کہ ہم (بھارت کے ساتھ) تمام تصفیہ طلب امور کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے آئے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ہم آج بھی بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘‘۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزارتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ آج کے دور درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اجتماعی کوششیں بروئے کار لائیں۔

انھوں نے ایس سی او کو خطے کے ممالک کے درمیان روابط استوار کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان تنظیم کے منشور پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہ داری ( سی پیک) سے خطے میں مزید روابط ا ستوار کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور اظہاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اس مسئلے کے جڑ سے استیصال کی ضرورت پر زور دیا۔انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے کامیابی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے ۔انھوں نے ایس سی او کے رکن ممالک کو پاکستان کے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تجربات پر تبادلہ خیال کی دعوت دی۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان افغان امن عمل میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔یہ افغانستان کے عوام اپنا اقدام ہےاور اس کی ناؤ بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔انھوں نے جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیےکرتار پور راہداری کو کھول کر امن کا ایک پیغام دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے ایس سی او کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔انھوں نے ان سے دوطرفہ تعلقات ، خطے میں سکیورٹی کی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قزاقستان نے اپنی دوطرفہ تجارت کاحجم ایک ارب ڈالرز تک بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اورجمہوریہ قزاقستان کے وزیر خارجہ بی بت اتامکولوف نے بیشکِک میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے ہیں۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے سے بھی اتفاق کیا ہے۔