.

قانون اندھا نہیں، بلکہ اب کیمرے کی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے!

ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی، پاکستان میں ای-کورٹ سسٹم کا باقاعدہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمے کی سماعت کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ یہ اعزاز سوموار کے روز ملک کی عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری کے حصے میں آیا جہاں ای-کورٹ کی کارروائی عمل میں آئی۔ مقدمہ سننے والے فاضل جج صاحبان سپریم کورٹ، اسلام آباد میں موجود تھے جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت کی۔

اسلام آباد سے کیس کی ای-کورٹ سماعت کے دوران فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کی جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست ضمانت پر فیصلے میں تاخیر کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قتل کیس کے ملزم نور محمد خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست سے متعلق کیس کی ای-کورٹ سماعت کی تھی۔

ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا یہ تجربہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا جس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور بینچ میں شامل مزید 2 جج صاحبان دنیا کی تاریخ کے پہلے جسٹس جبکہ سینئر ایڈووکیٹ یوسف لغاری دلائل دینے والے پہلے وکیل بھی بن گئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے عملے اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے حکام سمیت تمام متعلقہ حکام کو پہلی مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای کورٹ سسٹم سے آج کے دن سائلین کے 20 سے 25 لاکھ روپے بچ گئے کیونکہ ان کے وکلا بزنس کلاس میں سفر کرتے اور اسلام آباد پہنچ کر فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے اور سائلین کے ہی خرچ پر وکلا وفاقی دارالحکومت میں کھانے بھی کھاتے۔

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا آئینی ذمہ داری ہے اور ہم اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سستے اور بروقت انصاف کے کے لیے وکلا کا تعاون مطلوب ہے، ہم روز سوچتے ہیں کہ انصاف کے سائلین کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔