.

بلاول کی نیب میں پیشی پر اسلام آباد کا ریڈ زون میدان جنگ بن گیا

پولیس کا جیالوں کے خلاف لاٹھی چارج، اشک آور گیس اور واٹر کینن کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب اسلام آباد کے دفتر پر پیشی کے موقع پر ڈی چوک سمیت اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں پی پی پی کارکنوں کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی، جس کے دوران کئی کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

اس موقع پر پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد اسلام آباد میدان جنگ بن گیا۔ جیالے رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھتے رہے۔ پولیس کی جانب سے پی پی پی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، ان کے خلاف اشک آور گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی جیالوں اور جیالیوں کو حراست میں لے لیا، پولیس اہلکاروں نے ان حراست میں لیے گئے کارکنوں پر تشدد بھی کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کی نیب ہیڈ کوارٹر میں پیشی کے موقع پر اسلام آباد انتظامیہ نے جیالوں کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ دیگر شہروں سے آنے والے پی پی کارکنوں کو روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

پابندی کے باوجود اپنے لیڈر کے استقبال اور انہیں سپورٹ کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں نیب ہیڈکوارٹر پہنچے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کے حق میں نعرے لگائے۔ پارٹی کارکنان کی جانب سے پولیس مزاحمت کے بعد ہنگامہ آرائی شروع کردی گئی جس پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ کارکنان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ بھی وہاں پہنچے تھے تاہم انہیں پولیس نے ڈی چوک پر نہ روکتے ہوئے نیب ہیڈ کوارٹر جانے کی اجازت دی۔

بلاول بھٹو زرداری نیب ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں پیش ہوئے تو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب راولپنڈی عرفان منگی کی سربراہی میں کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ذرائع کے مطابق نیب نے بلاول بھٹو زرداری سے جے وی اوپل کیس سوالات کیے۔ چیئرمین پی پی پی نے نیب کے الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کی جانب سے سوالنامہ فراہم کیا گیا جبکہ انہیں جوابات دینے کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی ہنما مرتضیٰ وہاب، نیئر بخاری بھی نیب ہیڈکوارٹر پہنچے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کے وکلا ونگ کے کارکنان نے نیب آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو دوران ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد 3 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اخبار کے فوٹوگرافر کو بھی پولیس نے گرفتار کیا، تاہم صحافیوں کے احتجاج کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔

بلاول بھٹو نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا تھا کہ پارٹی کی جانب سے باقاعدہ مظاہرے کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اظہارِ یکجہتی کے لیے جناح ایونیو پہنچے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں مخالفین کو حراساں کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا، جو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ نیب نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں آج الگ الگ طلب کیا تھا۔نیب کی ٹیم نے پارک لین کمپنی کیس میں بلاول بھٹو کا بیان ریکارڈ کر نا تھا جبکہ آصف علی زرداری سے سندھ حکومت کی طرف سے دیے گئے غیر قانونی ٹھیکوں میں خورد برد اور اہل خانہ کے ایئر ٹکٹس، نجی طیاروں کے اخراجات اور نو ڈیرو ہاؤس کے اخراجات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی تھی تاہم آصف علی زرداری نے رات گئے نیب میں پیشی سے ایک بار پھر معذرت کر لی ہے۔ وہ گذشتہ پیشی پر بھی مصروفیت کے باعث نہیں آ سکے تھے۔